یہ پہلی مرتبہ ہے کہ پینٹاگون نے ایران جنگ کی مجموعی لاگت کا سرکاری تخمینہ پیش کیا ہے، تاہم وزارتِ دفاع نے یہ واضح نہیں کیا کہ 37.5 ارب ڈالر کا تخمینہ کن تفصیلی حسابات کی بنیاد پر تیار کیا گیا۔
جنگ پر خرچ کہاں ہوا؟
اگرچہ پینٹاگون نے مکمل مالی تفصیلات جاری نہیں کیں، تاہم امریکی حکام اور سابقہ سرکاری بریفنگز کے مطابق یہ اخراجات کئی بڑے شعبوں پر مشتمل ہیں۔
ایران پر فضائی حملے، میزائل اور بمباری، بحیرۂ ہرمز اور خلیجی پانیوں میں بحری بیڑوں کی تعیناتی جنگی طیاروں، ڈرونز اور فضائی آپریشنز، امریکی فوجیوں کی تعیناتی، لاجسٹکس اور سپلائی، میزائل دفاعی نظام اور فضائی دفاع تباہ ہونے والے ہتھیاروں اور گولہ بارود کی دوبارہ خریداری، زخمی فوجیوں کے علاج، انخلا اور فوجی معاونت، ستمبر 2026 تک جاری رہنے والی متوقع فوجی کارروائیوں کے اخراجات شامل ہیں۔
ابتدائی چھ دن ہی 11 ارب ڈالر سے زیادہ
جنگ کے ابتدائی مرحلے میں اخراجات غیر معمولی رفتار سے بڑھے۔ اس سے قبل امریکی ذرائع کے مطابق صرف پہلے چھ دن میں امریکا کم از کم 11.3 ارب ڈالر خرچ کر چکا تھا، جس سے اندازہ لگایا جا رہا تھا کہ اگر جنگ طویل ہوئی تو لاگت کئی گنا بڑھ سکتی ہے۔
مزید کتنی رقم درکار؟
صدر ڈونلڈ ٹرمپ پہلے ہی کانگریس سے تقریباً 90 ارب ڈالر کے اضافی ہنگامی فنڈز طلب کر چکے ہیں، جن کا بڑا حصہ ایران جنگ سے متعلق فوجی کارروائیوں کے لیے مختص کیا جانا ہے۔ دوسری جانب وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے 2027 کے لیے 1.5 ٹریلین ڈالر کے دفاعی بجٹ کی حمایت بھی طلب کی ہے۔
پینٹاگون کے بجٹ پر دباؤ
ہیگستھ نے کانگریس کو خبردار کیا کہ اگر اضافی فنڈز فراہم نہ کیے گئے تو فوجی تربیتی سرگرمیوں، سازوسامان کی دیکھ بھال اور مستقبل کی دفاعی تیاریوں پر منفی اثر پڑ سکتا ہے۔
جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے چیئرمین جنرل ڈین کین نے بھی تسلیم کیا کہ اگرچہ فوجیوں کی تنخواہیں ادا کی جا سکیں گی، تاہم فوجی استعداد برقرار رکھنا مشکل ہو سکتا ہے۔
The United States war in Iran has cost $37.5 billion so far, Defense Secretary Pete Hegseth said, an increase of nearly $8 billion since the last public estimate https://t.co/pUX3itXxC9 pic.twitter.com/NUlBbTFmk0
— Reuters (@Reuters) July 21, 2026
سیاسی محاذ پر بھی دباؤ
امریکا میں رواں سال وسط مدتی انتخابات قریب ہیں، ایسے میں ایران جنگ صدر ٹرمپ کی حکومت کے لیے ایک بڑا سیاسی مسئلہ بنتی جا رہی ہے۔ ڈیموکریٹ اراکین کانگریس کا مؤقف ہے کہ جنگ نے مہنگائی، وفاقی اخراجات اور عوامی معاشی مشکلات میں اضافہ کیا ہے، جب کہ انہوں نے انتظامیہ پر جنگی حکمت عملی سے متعلق کانگریس کو مناسب معلومات نہ دینے کا بھی الزام عائد کیا ہے۔
جنگ کی انسانی قیمت
مالی اخراجات کے ساتھ ساتھ جنگ میں امریکی فوج کو بھی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ پینٹاگون کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق ایران جنگ میں اب تک 18 امریکی فوجی ہلاک جب کہ 430 کے قریب زخمی ہو چکے ہیں، اگرچہ زخمیوں کی بڑی تعداد دوبارہ ڈیوٹی پر واپس آ چکی ہے۔
بڑھتے اخراجات، بڑھتے سوالات
37.5 ارب ڈالر کے اخراجات نے ایک بار پھر یہ سوال کھڑا کر دیا ہے کہ آیا ایران کے خلاف جاری فوجی مہم اپنے اسٹریٹجک اہداف حاصل کر سکے گی یا یہ امریکا کے لیے ایک اور طویل اور مہنگی جنگ ثابت ہوگی۔ کانگریس میں فنڈنگ، جنگی حکمت عملی اور اخراجات پر بحث آنے والے ہفتوں میں مزید شدت اختیار کرنے کا امکان ہے۔







