میچ سے قبل کلیان ایمباپے، عثمان ڈیمبیلے اور مائیکل اولیسے پر مشتمل مضبوط فرانسیسی حملہ آور لائن کو فیصلہ کن برتری حاصل تھی، تاہم لوئس ڈی لا فوئنٹے کی ٹیم نے منظم دفاع، مضبوط مڈفیلڈ اور مؤثر حکمت عملی کے ذریعے فرانس کو بے بس کر دیا۔
اسپین نے پہلے ایک گھنٹے کے اندر ہی دو گول کر دیے۔ میکل اویارزابال نے پنالٹی پر پہلا گول اسکور کیا، جبکہ پیڈرو پورو نے خوبصورت فنش کے ذریعے دوسرا گول کر کے ٹیم کی کامیابی یقینی بنا دی۔ فرانس پورے میچ میں صرف تین مرتبہ ہدف پر شاٹ لگا سکا۔
اس فتح کے ساتھ اسپین مسلسل 37 بین الاقوامی میچوں میں ناقابلِ شکست رہ کر اٹلی کے ریکارڈ کی برابری کر چکا ہے۔ اس کے علاوہ اسپین ورلڈ کپ کی تاریخ میں ایک ہی ایڈیشن میں چھ کلین شیٹس رکھنے والی پہلی ٹیم بھی بن گئی۔
ہیڈ کوچ لوئس ڈی لا فوئنٹے نے کامیابی کے بعد کہا کہ ان کی ٹیم اپنی محنت، قربانی اور نظم و ضبط کی بدولت فائنل تک پہنچی ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ ٹیم نے 2010 کی عالمی چیمپئن اسپین کی روح کو دوبارہ زندہ کر دیا ہے۔
مزید پڑھیں: ’ٹیم باصلاحیت نوجوان کھلاڑی سے محروم‘، جنوبی افریقہ کے فٹبالر 25 برس کی عمر میں انتقال کر گئے
اسپین اب اتوار کو ہونے والے ورلڈ کپ فائنل میں ارجنٹینا یا انگلینڈ میں سے کسی ایک کا سامنا کرے گا، جبکہ فرانس تیسری پوزیشن کے پلے آف میچ میں میدان میں اترے گا۔
ماہرین نے اسپین کی کامیابی کا سہرا مضبوط اجتماعی کھیل، مڈفیلڈ پر مکمل کنٹرول، مؤثر پریسنگ اور بہترین دفاعی حکمت عملی کو دیا ہے، جس نے فرانس جیسے مضبوط حریف کو بھی بے اثر کر دیا۔







