پاکستان کی جانب سے پہلی اننگز 455 رنز پر 4 کھلاڑی آؤٹ ہونے کے بعد ڈکلیئر کیے جانے کے جواب میں ویسٹ انڈیز کی بیٹنگ کا آغاز مشکلات سے دوچار رہا۔ اوپنر ٹیگنرائن چندرپال نے ذمہ دارانہ کھیل کا مظاہرہ کرتے ہوئے 155 گیندوں پر 51 رنز بنائے، جس میں پانچ چوکے اور ایک چھکا شامل تھا، تاہم اسپنر علی عثمان نے انہیں آؤٹ کر دیا۔
میزبان ٹیم کی جانب سے کیوم ہوج سب سے نمایاں بیٹر رہے، جنہوں نے 130 گیندوں پر 92 رنز کی عمدہ اننگز کھیلی۔ ان کی اننگز میں 14 چوکے اور ایک چھکا شامل تھا، تاہم وہ سنچری مکمل کرنے سے قبل علی عثمان کی گیند پر وکٹ گنوا بیٹھے۔ ٹیرنس ہائنڈز نے 24 رنز کی اننگز کھیلی، جنہیں عامر جمال نے پویلین واپس بھیجا۔
تیسرے روز کے اختتام پر جیڈ گولی 44 اور کپتان جومیل واریکن 24 رنز کے ساتھ ناٹ آؤٹ تھے۔
پاکستانی بولرز نے نظم و ضبط کے ساتھ بولنگ کرتے ہوئے مسلسل وقفوں سے وکٹیں حاصل کیں۔ محمد علی تین وکٹیں لے کر سب سے کامیاب بولر رہے، جبکہ علی عثمان اور عامر جمال نے دو، دو کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔ محمد عباس نے ایک وکٹ اپنے نام کی۔
اس سے قبل پاکستان نے اپنی پہلی اننگز 455 رنز پر 4 وکٹوں کے نقصان پر ڈکلیئر کی تھی۔ اذان اویس اور بابر اعظم نے شاندار سنچریاں اسکور کیں، جبکہ عبداللہ فضل نے نصف سنچری بنائی۔ محمد رضوان 44 رنز کے ساتھ ناٹ آؤٹ رہے، جبکہ شان مسعود نے 70 رنز کی اہم اننگز کھیل کر ٹیم کی مضبوط بنیاد رکھی۔
مزید پڑھیں: 2027 ورلڈ کپ میرا سب سے بڑا ہدف ہے، نئی گیند کا سامنا کرنا آسان نہیں ہوتا: فخر زمان
میچ کے تیسرے روز کے اختتام پر پاکستان کو واضح برتری حاصل ہے اور چوتھے روز بھی میزبان ٹیم پر دباؤ برقرار رکھنے کے لیے پاکستانی بولرز پُراعتماد دکھائی دے رہے ہیں۔






