ذرائع کے مطابق لیب کے لیے نیشنل کرکٹ اکیڈمی میں جگہ مختص کر دی گئی ہے، جہاں جدید کیمرے، سنسرز، فورس پلیٹس اور دیگر جدید آلات نصب کیے جائیں گے۔ یہ سہولیات کھلاڑیوں، خصوصاً فاسٹ بولرز، کی باؤلنگ ایکشن اور جسمانی حرکات کا سائنسی تجزیہ کرنے میں مدد دیں گی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ منصوبے پر تیزی سے کام جاری ہے اور توقع ہے کہ جدید بائیو مکینکس لیب رواں سال کے اختتام تک مکمل طور پر فعال ہو جائے گی۔

پی سی بی کے ڈائریکٹر ہائی پرفارمنس عاقب جاوید نے کہا ہے کہ پاکستان میں اس وقت کرکٹ کے لیے جدید ریسرچ سینٹر موجود نہیں، اسی کمی کو پورا کرنے کے لیے یہ اہم منصوبہ شروع کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس سلسلے میں برطانیہ کی معروف لف برا یونیورسٹی کے ساتھ تکنیکی تعاون کے لیے بھی بات چیت جاری ہے۔

مزید پڑھیں:فیفا ورلڈ کپ 2026: اختتام سے قبل ہی تماشائیوں کی تعداد تاریخی سطح پر پہنچ گئی 

ماہرین کے مطابق اس لیب کے قیام سے کھلاڑیوں کی کارکردگی میں بہتری، انجری کے خطرات میں کمی اور سائنسی بنیادوں پر تربیت کے نظام کو فروغ ملے گا، جس سے مستقبل میں پاکستان کرکٹ کو نمایاں فائدہ پہنچنے کی توقع ہے۔