ارشد ندیم نے کہا کہ انہوں نے ہمیشہ کی طرح اس مقابلے کے لیے بھی بھرپور محنت کی اور اپنی طرف سے بہترین کارکردگی دکھانے کی کوشش کی، لیکن نتائج ان کی توقعات کے مطابق نہیں آئے۔
انہوں نے اپنی کارکردگی کی وجہ بتاتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں انہوں نے گرم موسم میں ٹریننگ کی تھی، جبکہ مقابلے کے دوران موسم غیر معمولی طور پر سرد تھا اور ٹھنڈی ہوائیں چل رہی تھیں۔ ان کے مطابق اس موسم کی وجہ سے ان کی باڈی اکڑ گئی، جس کے باعث وہ معمول کے مطابق رن اپ نہیں لے سکے اور اپنی بہترین تھرو کرنے میں کامیاب نہ ہو سکے۔
قومی ہیرو نے کہا کہ ماضی میں وہ اکثر فاؤل کرتے تھے کیونکہ وہ پوری رفتار کے ساتھ رن اپ لیتے تھے، لیکن اس بار مسئلہ فٹنس کا نہیں بلکہ موسمی حالات کے باعث رن اپ متاثر ہونے کا تھا۔
سوشل میڈیا پر تنقید کے حوالے سے ارشد ندیم نے کہا کہ انہوں نے کچھ منفی تبصرے دیکھے ہیں جن سے انہیں دکھ ضرور ہوا، تاہم پاکستانی قوم ان کی اپنی قوم ہے اور اگر عوام ناراضی کا اظہار کرتی ہے تو وہ اسے بھی اپنا حق سمجھتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ انہیں اس وقت قوم کی حوصلہ افزائی اور دعاؤں کی ضرورت ہے۔ ارشد ندیم نے عوام سے اپیل کی کہ وہ حوصلہ رکھیں، کیونکہ وہ ہمت نہیں ہاریں گے اور آئندہ مقابلوں کے لیے پہلے سے زیادہ محنت کریں گے۔
ارشد ندیم نے بتایا کہ اب ان کی توجہ آنے والے بین الاقوامی مقابلوں پر ہے، جن میں ستمبر میں ہنگری کے شہر بڈاپسٹ میں ہونے والی ورلڈ ایتھلیٹکس چیمپئن شپ اور ایشین گیمز شامل ہیں۔
انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ وہ اپنی غلطیوں کو دور کرکے آئندہ ایونٹس میں بہتر کارکردگی دکھانے کی کوشش کریں گے تاکہ ایک بار پھر پاکستان کا نام عالمی سطح پر روشن کر سکیں۔
یاد رہے کہ کامن ویلتھ گیمز کے جیولن تھرو فائنل میں ارشد ندیم اپنے گزشتہ اعزاز کا دفاع نہیں کر سکے تھے اور ٹاپ 8 کھلاڑیوں میں بھی جگہ نہ بنا سکے تھے۔ ایونٹ کا طلائی تمغہ سری لنکا کے جیولن تھروور رومیش تھارانگا نے حاصل کیا تھا۔







