انگلینڈ کے خلاف کارڈف میں کھیلے گئے دوسرے ایک روزہ میچ میں 39 سالہ روہت شرما 47 گیندوں پر صرف 26 رنز بنا سکے، جبکہ انگلینڈ نے میچ جیت کر تین میچوں کی سیریز ایک، ایک سے برابر کر دی

 روہت اب مسلسل 11 ون ڈے میچوں میں سنچری بنانے میں ناکام رہے ہیں، جس کے باعث ان کی فارم اور اگلے سال جنوبی افریقہ، زمبابوے اور نمیبیا میں ہونے والے ورلڈ کپ کے لیے ان کی ٹیم میں جگہ پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔

بھارتی اخبار انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق سلیکٹرز نے مبینہ طور پر روہت شرما کو آگاہ کر دیا ہے کہ وہ مستقبل کی منصوبہ بندی میں نئے کھلاڑیوں کو موقع دینے پر غور کر رہے ہیں۔ اس رپورٹ کے بعد یہ قیاس آرائیاں بھی سامنے آئیں کہ لارڈز میں اتوار کو انگلینڈ کے خلاف تیسرا ون ڈے روہت شرما کے کیریئر کا آخری ایک روزہ میچ ہو سکتا ہے۔

تاہم بھارتی ٹیم کے بیٹنگ کوچ ستانشو کوٹک نے ان خبروں کو اہمیت دینے سے گریز کرتے ہوئے کہا کہ روہت شرما جیسے بڑے کھلاڑی پر ایک یا دو ناکام اننگز کی بنیاد پر سوال نہیں اٹھائے جا سکتے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہر بلے باز کے کیریئر میں ایسے دن آتے ہیں جب وہ اپنی پسند کی رفتار حاصل نہیں کر پاتا، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ جدوجہد کر رہا ہے۔

کوٹک نے امید ظاہر کی کہ لارڈز میں روہت شرما اپنی صلاحیتوں کے مطابق شاندار اننگز کھیل سکتے ہیں اور ناقدین کو جواب دے سکتے ہیں۔

واضح رہے کہ روہت شرما ون ڈے کرکٹ کی تاریخ کے واحد بلے باز ہیں جنہوں نے تین مرتبہ ڈبل سنچری اسکور کی، جبکہ سری لنکا کے خلاف ان کے 264 رنز آج بھی اس فارمیٹ کا سب سے بڑا انفرادی اسکور ہیں۔

مزید پڑھیں: ارجنٹینا کے پلئیرز کا فاک لینڈز کے حق میں بینر لہرانا مہنگا پڑ گیا

 روہت اس سے قبل ٹیسٹ اور ٹی20 بین الاقوامی کرکٹ سے ریٹائرمنٹ لے چکے ہیں، جبکہ اب ان کے ون ڈے مستقبل پر بھی نظریں مرکوز ہیں۔