یہ مقابلہ فٹبال کی دنیا کے دو عظیم ترین ستاروں، 39 سالہ لیونل میسی اور 34 سالہ محمد صلاح، کے درمیان ممکنہ طور پر آخری ورلڈ کپ ٹکراؤ بھی ثابت ہو سکتا ہے۔ میسی پہلے ہی اشارہ دے چکے ہیں کہ یہ ان کا آخری ورلڈ کپ ہے، جبکہ صلاح 2030 تک کھیلنے کی خواہش رکھتے ہیں۔
ورلڈ کپ میں دونوں کھلاڑیوں کی کامیابیوں میں واضح فرق نظر آتا ہے۔ میسی نہ صرف عالمی چیمپئن ہیں بلکہ ورلڈ کپ کی تاریخ میں سب سے زیادہ گول کرنے والے اور سب سے زیادہ میچ کھیلنے والے کھلاڑی بھی ہیں۔ دوسری جانب محمد صلاح پہلی بار مصر کو ورلڈ کپ کے ناک آؤٹ مرحلے تک لے جانے میں کامیاب ہوئے ہیں، جو مصری فٹبال کی تاریخ کا ایک اہم سنگِ میل ہے۔
مصر نے گزشتہ مرحلے میں آسٹریلیا کو سنسنی خیز پنالٹی شوٹ آؤٹ کے بعد شکست دے کر آخری 16 میں جگہ بنائی تھی، جہاں محمد صلاح کی پنالٹی فتح کا اہم سبب بنی۔
ادھر ارجنٹائن میں میسی کی ممکنہ ریٹائرمنٹ بھی ایک بڑا موضوع بنی ہوئی ہے۔ مقامی میڈیا کے مطابق ہر کامیابی ارجنٹائن کو ایک اور عالمی اعزاز کے قریب لے جا رہی ہے، مگر اسی کے ساتھ میسی کے بین الاقوامی کیریئر کے اختتام کا لمحہ بھی قریب آ رہا ہے۔ اس ورلڈ کپ میں میسی شاندار فارم میں ہیں اور متعدد نئے ریکارڈز بھی اپنے نام کر چکے ہیں۔
دوسری جانب مصر میں محمد صلاح کو صرف ایک فٹبالر نہیں بلکہ قومی فخر، امید اور اتحاد کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ مصری شائقین کا کہنا ہے کہ صلاح کی موجودگی پوری قوم کو حوصلہ اور اعتماد دیتی ہے، جبکہ ان کی قیادت میں ٹیم پہلی بار ورلڈ کپ کے ناک آؤٹ مرحلے تک پہنچی ہے۔
مزید پڑھیں: ٹرمپ کے رابطے کے بعد بالوگن کی واپسی: فیفا کا فیصلہ عالمی بحث بن گیا
فٹبال شائقین کی نظریں اب اس بڑے مقابلے پر مرکوز ہیں، جہاں ایک طرف عالمی چیمپئن ارجنٹائن اپنے اعزاز کے دفاع کی کوشش کرے گا، جبکہ دوسری جانب مصر تاریخ رقم کرنے کے لیے میدان میں اترے گا۔







