2018 کی عالمی چیمپئن فرانس مسلسل تیسری بار ورلڈ کپ فائنل میں پہنچنے کی کوشش کر رہی ہے، جبکہ 2010 کی عالمی چیمپئن اور موجودہ یورپی چیمپئن اسپین ایک ساتھ یورپ اور دنیا کا تاج اپنے نام کرنے والی تاریخ کی چوتھی ٹیم بننے کے لیے پُرعزم ہے۔
فرانس کے کپتان کلیان ایمباپے اس ورلڈ کپ میں شاندار فارم میں ہیں۔ وہ چھ میچوں میں آٹھ گول کر کے لیونل میسی کے ساتھ گولڈن بوٹ کی دوڑ میں مشترکہ طور پر سرفہرست ہیں، جبکہ تین اسسٹ بھی دے چکے ہیں۔ ایمباپے ورلڈ کپ کی تاریخ میں 19 گول کر چکے ہیں اور فرانس کے لیے 104 بین الاقوامی میچوں میں 64 گول بنا کر ملک کے سب سے زیادہ گول کرنے والے کھلاڑی بھی بن چکے ہیں۔
دوسری جانب صرف 19 سالہ لامین یامال اگرچہ اس ٹورنامنٹ میں ایک ہی گول کر سکے ہیں، تاہم ان کی رفتار، ڈریبلنگ اور کھیل بنانے کی صلاحیت اسپین کی سب سے بڑی طاقت سمجھی جا رہی ہے۔ اسپین کے کوچ لوئس ڈی لا فوئنٹے کا کہنا ہے کہ یامال پر غیر ضروری دباؤ ڈالنے کے بجائے انہیں اپنے فطری کھیل سے لطف اندوز ہونے دینا چاہیے، کیونکہ وہ بڑے مقابلوں میں فیصلہ کن کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق ایمباپے گول اسکورنگ میں واضح برتری رکھتے ہیں، جبکہ لامین یامال ڈریبلنگ اور دفاعی محنت میں نمایاں رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دونوں کھلاڑیوں کی براہِ راست کارکردگی سیمی فائنل کے نتیجے پر گہرا اثر ڈال سکتی ہے۔
دونوں ٹیموں کے درمیان گزشتہ چند برسوں میں ہونے والے اہم مقابلے انتہائی سنسنی خیز رہے ہیں۔ یورو 2024 کے سیمی فائنل میں اسپین نے فرانس کو 2-1 سے شکست دی تھی، جبکہ یوئیفا نیشنز لیگ کے سیمی فائنل میں بھی اسپین نے 5-4 سے کامیابی حاصل کی تھی۔
مزید پڑھیں: فیفا ورلڈ کپ 2026: اختتام سے قبل ہی تماشائیوں کی تعداد تاریخی سطح پر پہنچ گئی
فٹبال ماہرین کے مطابق ڈلاس میں ہونے والا یہ سیمی فائنل نہ صرف دو مضبوط ٹیموں بلکہ موجودہ عالمی سپر اسٹار کلیان ایمباپے اور مستقبل کے روشن ستارے لامین یامال کے درمیان بھی ایک یادگار مقابلہ ثابت ہو سکتا ہے۔ اس میچ کی فاتح ٹیم 19 جولائی کو نیو جرسی میں ہونے والے ورلڈ کپ فائنل میں ٹائٹل کے لیے میدان میں اترے گی۔







