پولیس کے مطابق بدھ کے روز دارالحکومت ڈھاکا سے تقریباً 170 کلومیٹر دور جنوب مغرب میں واقع قصبے مگورا میں مشتعل افراد کے ایک گروپ نے شکیب الحسن کے گھر پر حملہ کیا۔
حکام کا کہنا ہے کہ حملے کے وقت گھر میں کوئی موجود نہیں تھا اور واقعے میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔
یہ حملہ اس وقت پیش آیا جب عوامی لیگ کے سابق رکنِ پارلیمنٹ شکیب الحسن نے چند گھنٹے قبل نئی دہلی میں فارن کورسپانڈنٹس کلب آف ساؤتھ ایشیا کے زیرِ اہتمام منعقدہ ایک ورچوئل تقریب میں شرکت کی، جس میں بنگلادیش کی سابق وزیراعظم شیخ حسینہ واجد نے میڈیا نمائندوں سے خطاب کیا۔ شکیب الحسن بھی اس تقریب میں آن لائن شریک ہوئے تھے۔
شیخ حسینہ واجد نے، جنہیں 2024 میں اقتدار سے ہٹائے جانے کے بعد پہلی بار میڈیا سے گفتگو کا موقع ملا، اپنے خطاب میں دسمبر میں وطن واپسی کا اعلان بھی کیا۔
حسینہ واجد حکومت کی بے دخلی کے دو سال مکمل ہونے کے موقع پر منعقد ہونے والی یہ تقریب، 2024 میں بنگلادیش سے روانگی کے بعد ان کی میڈیا سے پہلی عوامی گفتگو تھی۔
دوسری جانب بنگلادیش کی وزارتِ خارجہ نے شیخ حسینہ کی میڈیا سے گفتگو کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے بنگلادیش کی خودمختاری کے خلاف قرار دیا ہے۔ وزارت کا کہنا ہے کہ بھارت کی جانب سے انہیں میڈیا سے خطاب کی اجازت دینا دونوں ممالک کے تعلقات پر منفی اثر ڈال سکتا ہے۔
واضح رہے کہ شکیب الحسن 2024 میں عوامی لیگ کے ٹکٹ پر رکنِ پارلیمنٹ منتخب ہوئے تھے، تاہم حکومت کی تبدیلی کے بعد سے وہ ملک سے باہر ہیں۔ ان کے خلاف قتل، بدعنوانی، فراڈ اور منی لانڈرنگ سمیت متعدد مقدمات زیرِ تفتیش ہیں۔







