اضافی وقت کے دوسرے ہاف میں اسپین کے فیرن ٹوریس نے فیصلہ کن گول کر کے اپنی ٹیم کو تاریخی فتح دلا دی۔
یہ مسلسل چھٹا ورلڈ کپ فائنل تھا جس کا فیصلہ ایکسٹرا ٹائم میں ہوا۔ اسپین نے پورے میچ میں جارحانہ کھیل پیش کرتے ہوئے ارجنٹینا کے گول پر 15 شاٹس لگائے، تاہم ارجنٹائن کے گول کیپر نے 9 یقینی گول بچا کر اپنی ٹیم کو طویل عرصے تک مقابلے میں برقرار رکھا۔
فائنل سے قبل فیفا ورلڈ کپ 2026 کی رنگا رنگ اختتامی تقریب منعقد ہوئی، جس کے بعد میچ کا آغاز ہوا۔ ارجنٹینا چوتھی مرتبہ جبکہ اسپین دوسری مرتبہ عالمی چیمپئن بننے کے لیے میدان میں اتریں۔ اس موقع پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور فیفا کے صدر جیانی انفانٹینو بھی اسٹیڈیم میں موجود تھے۔
فیفا ورلڈ کپ کی تاریخ میں پہلی مرتبہ فاتح ٹیم کو ٹرافی اور گولڈ میڈلز کے ساتھ خصوصی چیمپئن شپ رنگز بھی دی جائیں گی، جو امریکی کھیلوں کی ایک معروف روایت ہے۔ فاتح ٹیم کو انعامی رقم کے طور پر تقریباً 14 ارب پاکستانی روپے جبکہ رنر اپ ٹیم کو 9 ارب روپے سے زائد اور چاندی کے تمغے دیے جائیں گے۔
فائنل دیکھنے کے لیے دنیا بھر سے معروف شخصیات بھی نیو جرسی اسٹیڈیم پہنچیں، جن میں سربیا کے ٹینس اسٹار نوواک جوکووچ، برازیل کے لیجنڈ رونالڈینو اور آئیوری کوسٹ کے سابق اسٹرائیکر ڈیڈیئر ڈروگبا شامل تھے۔ دنیا کے مختلف ممالک میں بھی شائقین نے بڑی اسکرینوں پر فائنل میچ دیکھا۔
فیفا ورلڈ کپ کی تاریخ میں پہلی بار ہاف ٹائم شو بھی منعقد کیا گیا، جس میں جنوبی کوریا کے معروف بینڈ بی ٹی ایس نے پرفارم کیا، جبکہ کینیڈا کے گلوکار جسٹن بیبر اور کولمبیا کی عالمی شہرت یافتہ گلوکارہ شکیرا نے بھی اپنے فن کا مظاہرہ کیا۔ شکیرا نے برنا بوائے کے ہمراہ ورلڈ کپ کا آفیشل گیت پیش کیا۔
واضح رہے کہ فیفا ورلڈ کپ کی تاریخ میں سب سے زیادہ پانچ مرتبہ عالمی چیمپئن بننے کا اعزاز برازیل کے پاس ہے، جب کہ جرمنی اور اٹلی چار، چار بار ٹائٹل اپنے نام کر چکے ہیں۔ یوراگوئے، فرانس اور اب اسپین دو، دو مرتبہ عالمی چیمپئن بن چکے ہیں، جبکہ انگلینڈ نے 1966 میں اپنا واحد ورلڈ کپ جیتا تھا۔







