اگر فیفا انہیں فائنل کا ریفری مقرر کرتا ہے تو وہ مردوں کے ورلڈ کپ فائنل میں سینٹر ریفری کی حیثیت سے فرائض انجام دینے والے پہلے ایشیائی، پہلے آسٹریلوی نمائندہ اور پہلے ایرانی نژاد ریفری بن جائیں گے۔ تاہم یہ تاریخی اعزاز سرکاری طور پر ایران نہیں بلکہ آسٹریلیا کے نام درج ہوگا۔

انگلینڈ کی شکست نے راستہ کیسے ہموار کیا؟

انگلینڈ اس ٹورنامنٹ میں اس سے قبل میکسیکو کے خلاف پری کوارٹر فائنل میں 3-2 سے کامیاب ہوا تھا، جس میچ کے ریفری علیرضا فقانی تھے۔

اس مقابلے میں انگلینڈ کے دفاعی کھلاڑی جیرل کوانسہ کو ریڈ کارڈ دکھایا گیا تھا، جس پر انگلش کھلاڑیوں اور کوچنگ اسٹاف نے شدید احتجاج کیا۔

بعد ازاں انگلینڈ کے ہیڈ کوچ تھامس ٹوخل نے فغانی کی کارکردگی پر کھل کر تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ ریفری کے اہم فیصلے ان کی ٹیم کے خلاف گئے۔

اگر انگلینڈ فائنل میں پہنچ جاتا تو فیفا کے لیے اسی ریفری کو دوبارہ انگلینڈ کے میچ پر تعینات کرنا تنازع کھڑا کر سکتا تھا۔ مگر انگلینڈ کے باہر ہونے کے بعد یہ رکاوٹ بھی ختم ہوگئی ہے۔

ایران میں ہیرو سے  غدار  تک

علیرضا فقانی کا کیریئر صرف فٹبال تک محدود نہیں رہا بلکہ سیاسی تنازعات سے بھی جڑا رہا۔ رپورٹس کے مطابق دسمبر 2025 اور جنوری 2026 میں ایران میں ہونے والے خونریز کریک ڈاؤن کی مذمت پر مبنی سوشل میڈیا پوسٹس کے بعد ایران کی فٹبال فیڈریشن نے انہیں بین الاقوامی ریفریز کی فہرست سے نکال دیا۔

ایرانی عدلیہ نے ان کے اثاثے ضبط کیے۔ ایران کے پاسداران انقلاب (آئی آر جی سی) سے منسلک ذرائع ابلاغ جیسے فارس اور تسنیم نیوز نے انہیں  غدار  قرار دیا۔ آج یہی ریفری دنیا کے سب سے بڑے فٹبال میچ کی قیادت کے دہانے پر کھڑا ہے۔

ورلڈ کپ میں ایرانی ریفریز کی تاریخ

ایران کی قومی ٹیم اگرچہ ورلڈ کپ میں کبھی بڑی کامیابی حاصل نہیں کر سکی، لیکن ایرانی ریفریز نے عالمی سطح پر نمایاں مقام بنایا۔

جعفر نامدار

1974 کے ورلڈ کپ میں شریک ہونے والے پہلے ایرانی ریفری تھے۔ انہوں نے آسٹریلیا اور چلی کے درمیان گروپ میچ کی نگرانی کی، تاہم ایک دلچسپ غلطی بھی ان سے منسوب ہے۔

انہوں نے آسٹریلوی کھلاڑی کو دو مرتبہ پیلا کارڈ دکھانے کے باوجود فوری ریڈ کارڈ نہیں دیا اور بعد میں فیفا حکام کی نشاندہی پر میدان سے باہر بھیجا۔ وہ 1978 کے ورلڈ کپ میں بھی ریفری رہے۔


محمد فنائی

1994 کے ورلڈ کپ میں بطور اسسٹنٹ ریفری منتخب ہوئے۔ انہیں برازیل اور اٹلی کے درمیان ہونے والے ورلڈ کپ فائنل میں لائنز مین مقرر کیا گیا، جو آج بھی ایرانی آفیشلز کی تاریخ کا سب سے بڑا سرکاری اعزاز سمجھا جاتا ہے۔

حسن کامرانی فر

2010 اور 2014 کے ورلڈ کپ میں اسسٹنٹ ریفری رہے۔

علیرضا فقانی

2014 میں وہ ریفریز کے پینل کا حصہ تھے، تاہم کسی میچ میں سینٹر ریفری نہیں بنے بلکہ افتتاحی میچ سمیت متعدد مقابلوں میں چوتھے آفیشل کے طور پر ذمہ داریاں ادا کیں۔

2018 میں انہوں نے جرمنی بمقابلہ میکسیکو، سربیا بمقابلہ برازیل، فرانس بمقابلہ ارجنٹینا اور بیلجیئم بمقابلہ انگلینڈ (تیسری پوزیشن) جیسے اہم میچز ریفری کیے۔ 2022 میں انہوں نے برازیل بمقابلہ سربیا، پرتگال بمقابلہ یوراگوئے کی نگرانی کی۔


اگر فائنل ملا تو ایران نہیں، آسٹریلیا تاریخ لکھے گا

اگرچہ علیرضا فقانی ایران میں پیدا ہوئے، وہیں ریفری بنے اور عالمی شہرت حاصل کی، لیکن 2023 سے وہ فیفا کی بین الاقوامی فہرست میں آسٹریلیا کی نمائندگی کر رہے ہیں۔ ورلڈ کپ 2026 میں بھی فیفا انہیں آسٹریلوی ریفری کے طور پر درج کر رہا ہے۔

اس لیے اگر وہ فائنل ریفری کرتے ہیں تو فیفا ریکارڈ میں یہ اعزاز آسٹریلیا کے نام ہوگا۔ ایران کے سرکاری ریکارڈ میں اب بھی محمد فنائی کا 1994 کا فائنل سب سے بڑی کامیابی رہے گا۔

فقانی پہلے ہی کن بڑے فائنلز کی نگرانی کر چکے ہیں؟

علیرضا فقانی دنیا کے ان چند ریفریز میں شامل ہیں جنہوں نے تقریباً ہر بڑا عالمی فائنل ریفری کیا ہے۔ ان میں 2014 اے ایف سی چیمپئنز لیگ فائنل 2015 ایشین کپ فائنل، 2015 فیفا کلب ورلڈ کپ فائنل، 2016 ریو اولمپکس فٹبال فائنل اور 2025 فیفا کلب ورلڈ کپ فائنل شامل ہیں۔

ایشین فٹبال کنفیڈریشن انہیں کئی برسوں سے ایشیا کا کامیاب ترین ریفری قرار دیتی رہی ہے۔

کون سے ریکارڈ ٹوٹ سکتے ہیں؟

اگر علیرضا فقانی ورلڈ کپ 2026 کا فائنل ریفری کرتے ہیں تو وہ مردوں کے ورلڈ کپ فائنل کے پہلے ایشیائی سینٹر ریفری بن جائیں گے۔

آسٹریلیا کی نمائندگی کرتے ہوئے ورلڈ کپ فائنل ریفری کرنے والے پہلے آفیشل ہوں گے۔ ایرانی نژاد پہلے ریفری ہوں گے جو ورلڈ کپ فائنل کی قیادت کریں گے۔

ورلڈ کپ میں مجموعی طور پر 10 میچ ریفری کر کے ایشیا کے دوسرے کامیاب ترین ریفری بن جائیں گے، جب کہ ازبکستان کے روشن ارمتوف 11 میچز کے ساتھ پہلے نمبر پر رہیں گے۔

ورلڈ کپ فائنل ریفری کو کتنی رقم ملتی ہے؟

فیفا نے 2026 کے ورلڈ کپ فائنل کے لیے الگ سے معاوضے کا اعلان نہیں کیا، تاہم بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق ہر ریفری کو ٹورنامنٹ میں شرکت پر تقریباً 70 ہزار امریکی ڈالر بنیادی الاؤنس دیا جاتا ہے۔

ناک آؤٹ مرحلے اور فائنل تک پہنچنے والے ریفریز اضافی میچ فیس اور بونس بھی وصول کرتے ہیں۔ اندازہ ہے کہ فائنل تک پہنچنے والا ریفری مجموعی طور پر ایک لاکھ امریکی ڈالر سے زائد کماتا ہے۔

صرف ایک میچ نہیں، تاریخ کا موقع

اگر فیفا علیرضا فقانی کو ورلڈ کپ 2026 کے فائنل کی ذمہ داری سونپ دیتا ہے تو یہ صرف ایک ریفری کی تقرری نہیں ہوگی بلکہ عالمی فٹبال کی تاریخ میں ایک اہم باب کا اضافہ ہوگا۔

وہ ایک ایسے ایرانی نژاد آفیشل ہوں گے جنہیں اپنے آبائی ملک میں شدید تنقید اور سیاسی دباؤ کا سامنا کرنا پڑا، مگر آج وہ دنیا کے سب سے بڑے فٹبال مقابلے کی قیادت کرنے کے قریب ہیں۔

اگرچہ تاریخ انہیں ایرانی نژاد ریفری کے طور پر یاد رکھے گی، لیکن فیفا کی سرکاری تاریخ میں یہ اعزاز آسٹریلیا کے نام درج ہوگا۔