تاہم حال ہی میں جب پی آئی اے کے عملے کو ایشیا میں ساتواں بہترین عملہ قرار دیا گیا تو سوشل میڈیا پر ایک نئی بحث چھڑ گئی۔ صارفین نے اس درجہ بندی پر طنز، حیرت اور سوالات اٹھانے شروع کر دیے۔

سلمان نامی ایک صارف نے ایکس (سابق ٹوئٹر) پر پوسٹ کرتے ہوئے ایک تصویر شئیر کی جس میں لکھا تھا کہ  پی آئی اے کے عملے کو جنوبی ایشیا کا ساتواں بہترین عملہ قرار دیا گیا ہے۔

انہوں نے پوسٹ شئیر کرتے ہوئے طنزیہ انداز میں لکھا کہ یہ کیسی تشہیر ہے؟ جنوبی ایشیا میں صرف آٹھ ممالک ہیں، جن میں افغانستان کی کوئی ایئرلائن نہیں۔ تو پھر پی آئی اے تو عملی طور پر آخری نمبر پر آئی ہے۔

اسی پوسٹ کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ریڈیٹ پر شئیر کرتے ہوئے ایک صارف نے لکھاکہ یہ پوسٹ دیکھی تو ہنسی آ گئی، لیکن سوال یہ ہے کہ پی آئی اے کا مستقبل کیا ہے؟ یورپ اور برطانیہ کے کچھ روٹس دوبارہ کھولے گئے ہیں، مگر نجکاری کی بات اب بھی کہیں نہیں جا رہی۔ میں براہِ راست پروازوں کی بحالی چاہتا ہوں، لیکن اگر اس کا مطلب خراب سروس اور شہرت کے مزید مسائل ہیں، تو بہتر ہے نہ ہوں۔

بحث میں شامل کئی صارفین نے کہا کہ یہ درجہ بندی مشکوک لگتی ہے اور اس کے ذرائع واضح نہیں۔ کچھ کے مطابق یہ رینکنگ ممالک نہیں بلکہ ایئرلائنز کے حساب سے تھی، جب کہ دیگر کا کہنا تھا کہ درجہ بندی کی بنیاد ہی غیر شفاف ہے۔

ایک صارف نے پی آئی اے کی اصلاح کے لیے مشورہ دیتے ہوئے لکھا کہ پی آئی اے تب ہی بہتر ہو سکتی ہے جب پاکستان میں میرٹ کا نظام مضبوط ہو۔ یہاں نوکریاں سفارش پر ملتی ہیں، جس سے ایئرلائن غیر ضروری عملے کے بوجھ تلے دبی ہوئی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا لوگ اب بھی پی آئی اے پر اعتماد کریں گے؟

دوسرے صارف نے طنزیہ انداز میں کہاکہ جب آپ کو کام خراب کرنے پر بھی برطرف نہیں کیا جاتا، تو آپ خود کو لائق سمجھنے لگتے ہیں۔

مزاحیہ تبصروں میں ایک صارف نے کہاکہ اس سے بڑا مذاق میں نے آج تک نہیں دیکھا۔

اب سوال یہ ہے کہ کیا پی آئی اے واقعی دوبارہ اپنی پرانی شان حاصل کر سکے گی؟ تو جواب ہے ہاں کر سکتی ہے۔ اگر میرٹ، شفافیت اور پیشہ ورانہ نظم و ضبط کو ترجیح دی جائے، تو پی آئی اے ایک بار پھر بلندیوں پر اُڑ سکتی ہے۔

خیال رہے کہ حال ہی میں برطانیہ نے پاکستان کو اپنی ایئر سیفٹی فہرست سے نکال دیا ہے، جس کے بعد تمام پاکستانی فضائی کمپنیاں برطانیہ کے لیے پروازوں کی اجازت حاصل کرنے کے لیے درخواست دے سکتی ہیں۔