مقدمہ تھانہ سٹی جہلم میں ایک شہری کی درخواست پر دفعہ 295 سی کے تحت درج کیا گیا۔ اس سے ایک روز قبل انہیں حراست میں لیا گیا اور ڈپٹی کمشنر کے حکم پر تین ایم پی او کے تحت جیل میں نظر بند کر دیا گیا۔
ابھی ان کی گرفتاری پر سوشل میڈیا پر تنقید جاری تھی کہ اسلامی نظریاتی کونسل نے 24 ستمبر کو جاری اعلامیے میں انہیں گستاخ قرار دیتے ہوئے ان کے خلاف سخت تعزیری سزا کی سفارش کی۔
کونسل کے مطابق انجینیئر مرزا کے بیانات میں نقل کفر کے الفاظ کسی شرعی مقصد کے بغیر دہرائے گئے جو ناجائز ہیں اور بعض صورتوں میں سنگین گناہ شمار ہوتے ہیں۔
اسلامی نظریاتی کونسل نے یہ بھی کہا کہ مسیحی برادری کو مراسلہ بھیجا جائے گا تاکہ یہ واضح کیا جا سکے کہ مرزا کے جس بیان پر مقدمہ درج ہوا وہ ان کی مذہبی کتابوں کی اجتماعی رائے ہے یا نہیں۔
انجینیئر مرزا نے ایک بیان میں کہا تھا کہ مسیحی مذہبی کتب میں نعوذ باللہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کو دجال کہا گیا ہے جس پر توہین قرآن کی دفعات شامل کرنے کی تجویز دی گئی۔
اس فیصلے پر سوشل میڈیا پر ملا جلا ردعمل سامنے آیا۔ صحافی سبی کاظمی نے لکھا کہ انجینیئر علی مرزا سے جتنا مرضی اختلاف کریں لیکن وہ گستاخ نہیں ہوسکتا وہ تو عاشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور خود کو خادم آل رسول صلی اللہ علیہ وسلم تک کہتا ہے یہ اسلامی نظریاتی کونسل سے جو فتویٰ لینا چاہیں وہ مل جاتا ہے۔

ایک صارف نے سوال اٹھایا کہ اسلامی نظریاتی کونسل پہلے یہ وضاحت کرے کہ کیا ڈنڈے کے زور پر ایک ہی دن میں اپنا ہی فتویٰ واپس لینا جائز ہے میرے نزدیک انجینیئر محمد علی مرزا اسلامی نظریاتی کونسل کے مقابلے میں اسلام کی زیادہ خدمت کر رہے ہیں۔

صحافی احمد وڑائچ نے لکھا کہ مرزا صاحب کے طرز گفتگو سے مجھے اختلاف رہا ہے لیکن انجینیئر کو سنے بغیر یوں مجرم قرار دینا نامناسب حرکت ہے۔ انسانی حقوق کی کارکن جلیلہ حیدر نے کہا کہ یہ گستاخ گستاخ کا سلسلہ بند ہونا چاہیے ورنہ بات نکلے گی تو دور تلک جائے گی پھر کسی بھی فرقے کا مولوی جیل سے باہر نہ ہوگا۔

اسجد بخاری نامی صارف نے لکھا کہ اسلامی نظریاتی کونسل نے انجینئر محمد علی مرزا کو ملزم قرار دے کر نہ صرف انتہاپسندی کو ہوا دی ہے بلکہ ایک ریاستی ادارے کے طور پر اپنی ناکامی اور مجرمانہ ذہنیت کو بھی ظاہر کیا ہے۔
ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ پولیس چوہدری شہباز ہنجرا کے مطابق انجینیئر مرزا کو رات گئے حراست میں لیا گیا اور انہیں حالات کی سنگینی سے آگاہ کیا گیا۔ ڈپٹی کمشنر کی جانب سے جاری حکمنامے میں کہا گیا کہ مرزا کے بیانات قابل اعتراض ہیں اور ان سے فرقہ وارانہ نفرت اور نقض امن کا خدشہ ہے۔ اسی حکم کی بنیاد پر تین ایم پی او کے تحت انہیں نظر بند کیا گیا۔


محمد علی مرزا کا تعلق جہلم سے ہے۔ وہ خود کو کسی مسلک سے وابستہ نہیں کہتے اور ان کا نعرہ ہے میں ہوں مسلم علمی کتابی۔ ان کے یوٹیوب چینل پر 21 لاکھ سے زائد سبسکرائبرز ہیں۔ وہ ماضی میں بھی توہین مذہب کے الزامات پر گرفتار ہو چکے ہیں لیکن بعد ازاں عدالت سے رہا ہوئے تھے۔ ان پر دو ہزار سترہ اور دو ہزار اکیس میں قاتلانہ حملے بھی ہو چکے ہیں۔
واضع رہے کہ اب تک حکومت کی جانب سے اس فیصلے یا مقدمے پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔ تاہم قانونی ماہرین اور انسانی حقوق کے کارکنان اس کیس کی عدالتی اور شفاف تحقیقات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔







