ذرائع کی مطابق اس حملے میں انتہائی مطلوب دہشت گردوں کا نشانہ بنایا گیا جو پاکستان میں دہشت گردی کی کاروائیوں میں ملوث تھے۔
حکام کے مطابق خوارج کے ٹھکانوں کو انتہائی درست اور پیشہ ورانہ طریقے سے نشانہ بنایا گیا جو وزیرستان میں دہشت گردی میں ملوث تھے۔
اس کاروائی میں کسی شہری یا کرکٹر کو نقصان نہیں پہنچایا گیا۔ کرکٹ ٹیم پر حملے کا دعویٰ افغان پروپیگنڈا مہم کا حصہ ہے جس کا مقصد خوارج کو بچانا ہے۔
ذرائع کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں گل بہادر گروپ کے کمانڈر فضل الرحمن (خارجی گل بہادر کا چچا)، فرمان، صادق اللہ داوڑ، غازی مدہ خیل، مقرّب، قسمت اللہ، گلاب عرف دیوانہ، رحمانی، عادل، عاشق اللہ عرف کوثر اور کمانڈر یونس شامل ہیں۔
سماجی رابطے کی سائٹ ایکس پر جاری بیان میں عطا اللہ تارڑ نے بتایا کہ سرحدی علاقوں میں سیکیورٹی فورسز کی جانب سے کیے گئے جوابی حملوں کا مقصد افغانستان کی سرزمین سے پاکستان میں دہشت گردانہ کارروائیوں کی روک تھام تھا۔
عطاتارڑ نے شہریوں کے خلاف نشانہ بنانے کے حوالے سے کی جانے والی تمام قیاس آرائیوں اور دعووں کو بے بنیاد قرار دیا اور کہا کہ یہ دعوے افغانستان میں قائم دہشت گرد تنظیموں کی حمایت بڑھانے کی کوششوں کا حصہ ہیں۔
افغان حکام کی جھوٹے دعویٰ کی تردید وہاں کی ایک مقامی شہری نے کی ہے، پکتیکا کے ایک رہائشی نے ویڈیو بیان میں کہا کہ وہ پہلی بار سن رہا ہےکہ اُن کے اس بارڈر علاقے میں کرکٹ بھی کھیلی جاتی ہے۔
اس کا کہنا تھا کہ یہ علاقہ پہاڑی ہے اور اس علاقے میں کوئی کرکٹ گراؤنڈ یا اسٹیڈیم نہیں ہے، تو یہ کیسے ممکن ہے کہ یہاں کرکٹ کھیلی جا رہی تھی اور پاکستان کی ببماری سے لوگ زخمی یا ہلاک ہو گئے؟
افغان شہری کا مزید کہنا تھا کہ کرکٹ تو شہروں میں یا پھر کسی گراؤنڈ میں ہی کھیلی جاتی ہے، ان پہاڑی علاقوں میں کرکٹ نہیں کھیلی جاتی۔
سوشل میڈیا پر وائرل اس ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ وہ شہری کہا رہا کہ یہ سب افغان حکومت اور عوام کا ڈرامہ ہے، کیونکہ آپ کسی سے بھی پوچھ لو تو وہ یہی کہے گا کہ بارڈر علاقے میں کرکٹ نہیں کھیلی جاتی۔
دوسری جانب افغان حکام نے دعوی کیا ہے کہ پاکستان کے پکتیکا فضائی حملے میں تین افغان کرکٹرز اور پانچ شہری ہلاک ہوئے ہیں۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق افغان کرکٹ بورڈ نے دعویٰ کیا ہے کہ میچ میں شرکت کے لیے کھلاڑی پاکستان کی سرحد پر واقع شمالی صوبہ پکتیکا کے شہر ارگون سے شارانہ آئے تھے، واپس جاتے ہوئے پاکستان کے فضائی حملے کا نشانہ بنے۔
افغان کرکٹ بورڈ نے سماجی رابطے کی سائٹ ایکس پر پوسٹ کرتے ہوئے بتایا کہ ہلاک ہونے والوں میں کبیر، صبغت اللہ اور ہارون شامل ہیں تاہم حملے کی تفصیلات نہیں بتائی گئیں۔
حملے میں پانچ دیگر شہریوں کی ہلاکت اور سات کے زخمی ہونے کابھی دعویٰ کیا گیا ہے۔
افغان کرکٹ بورڈ نے متاثرہ خاندانوں سے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان کی سپورٹس کمیونٹی، ایتھلیٹس اور کرکٹ فیملی کے لیے بہت بڑا نقصان ہے۔
افغان کرکٹ بورڈ نے اعلان کیا کہ ’متاثرین کے احترام میں‘ پاکستان، افغانستان اور سری لنکا کے درمیان آئندہ ماہ ہونے والی سہ فریقی سیریز نہیں کھیلیں گے۔
پاکستان کا مؤقف ہے کہ حافظ گل بہادر گروپ افغانستان سے متصل شمالی وزیرستان میں واقع ایک فوجی کیمپ پر خودکش حملے میں ملوث تھا جس کے نتیجے میں سات پاکستانی فوجی اور پیرا ملٹری کے اہلکار شہید ہوئے تھے۔
واضح رہے کہ 11 اور 12 اکتوبر کی درمیانی شب افغان طالبان نے پاکستان پر بلااشتعال فائرنگ کی تھی۔ جس کا بھرپور جواب دیتے ہوئے پاکستان آرمی نے افغان فورسز کی کئی سرحدی چوکیوں کو تباہ کر دیا تھا۔جس میں سیکنڑوں افغان سپاہی اور خوارج ہلاک ہوئے تھے۔
پاکستان اور افغانستان کے مابین دو روز کی جنگ بندی کے دوران بھی خوارج نے پاکستان میں گھسنے کی کوشش کی جس کے نتیجے میں پاک فوج نے آپریشن جاری رکھے اور اب تک 150 سے زائد خوارج ہلاک ہو چکے ہیں۔
گزشتہ روز پاکستان اور افغان طالبان رجیم کے مابین فائر بندی میں توسیع پر اتفاق کر لیا گیا تھا،جس کے بعد جنگ بندی میں مزید 48 گھنٹے کی توسیع کر دی گئی ہے اور آج دوحہ میں امن مذاکرات کے لیے پاکستان اور افغانستان کا اعلیٰ وفد قطر پہنچ چکا ہے۔







