اس ماہ کے آغاز میں اسلام آباد ہائی کورٹ کی حتمی منظوری کے بعد ٹیلی نار پاکستان کو باضابطہ طور پر پاک ٹیلی کام موبائل لمیٹڈ، یعنی یوفون کی قانونی کمپنی، میں ضم کر دیا گیا تھا۔
پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن کمپنی لمیٹڈ کے ذرائع کے مطابق نئی ضم شدہ کمپنی کا نام "&ای" رکھا جائے گا، جو متحدہ عرب امارات کی سرکاری کمپنی اتصالات کے نئے برانڈ کی نمائندگی کرتا ہے۔
ذرائع کے مطابق پی ٹی سی ایل نے نئے برانڈ نام کی منظوری کے لیے پی ٹی اے کو خط لکھا تھا، تاہم پی ٹی اے نے جواب میں کہا کہ اس کے لیے سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان کی جانب سے ضم شدہ کمپنی کے بورڈ آف ڈائریکٹرز سے متعلق باضابطہ نوٹیفکیشن درکار ہوگا۔
اسی طرح پی ٹی ایم ایل کی جانب سے نئے برانڈ کی رجسٹریشن کے لیے بھیجی گئی درخواست کے جواب میں بھی پی ٹی اے نے ایس ای سی پی کا نوٹیفکیشن لازمی قرار دیا۔
وزارتِ آئی ٹی و ٹیلی کمیونیکیشن کے ایک عہدیدار کے مطابق چونکہ یوفون، پی ٹی ایم ایل کا برانڈ ہے اور ٹیلی نار پاکستان اسی میں ضم ہو چکا ہے، اس لیے کمپنی کے بورڈ آف ڈائریکٹرز میں تبدیلی یا عدم تبدیلی سے متعلق ایس ای سی پی کا نوٹیفکیشن ضروری ہے۔
دستیاب خط کے مطابق پی ٹی اے نے واضح کیا ہے کہ ایس ای سی پی کی منظوری کے بغیر نئے برانڈ کا آغاز یا اس کی تشہیر نہیں کی جا سکتی۔
ٹیلی نار پاکستان کے انضمام کے بعد مسابقتی کمیشن آف پاکستان کی ہدایات کے مطابق پی ٹی سی ایل کی تنظیمِ نو بھی کی گئی، جس کے تحت موبائل ٹیلی کمیونیکیشن کا کاروبار پی ٹی سی ایل اور اس کی دیگر ذیلی کمپنیوں سے الگ کر دیا گیا۔
اس وقت پی ٹی سی ایل میں تقریباً 62 فیصد حصص حکومتِ پاکستان کے پاس ہیں، جبکہ 26 فیصد حصص اور انتظامی کنٹرول ابوظہبی کی سرکاری ٹیلی کام کمپنی اتصالات کے پاس ہے، جس نے حال ہی میں اپنا برانڈ نام "ای&" اختیار کیا ہے۔ باقی 12 فیصد حصص پاکستان اسٹاک ایکسچینج کے ذریعے نجی سرمایہ کاروں کے پاس ہیں۔
تاہم وزارتِ آئی ٹی کے ایک سینئر عہدیدار نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ضم شدہ کمپنی کو "&ای" کا برانڈ نام دینا قانونی اعتراضات کا باعث بن سکتا ہے، کیونکہ پی ٹی ایم ایل اب بھی پی ٹی سی ایل کی ذیلی کمپنی ہے۔
مزید پڑھیں: سمندری پانی پینے کے قابل ہوگیا مگر کیسے؟
ان کے مطابق پی ٹی ایم ایل براہِ راست اتصالات کے ماتحت نہیں، اس لیے "&ای" برانڈ کا استعمال بین الاقوامی ٹریڈ مارک یا کاپی رائٹ قوانین کی خلاف ورزی تصور ہو سکتا ہے، یا پھر اس کے لیے اتصالات کو رائلٹی ادا کرنا پڑ سکتی ہے۔
عہدیدار نے مزید کہا کہ پی ٹی سی ایل گروپ طویل عرصے سے خسارے میں ہونے کے باوجود اتصالات کو منافع کی ادائیگی کرتا رہا ہے۔







