عالمی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق وائٹ ہاؤس کے مشیر کرٹ اولسن نے امریکی محکمہ تجارت سے مطالبہ کیا تھا کہ ڈومینین ووٹنگ سسٹم کی ووٹنگ مشینوں میں استعمال ہونے والے پرزوں اور سافٹ ویئر کو قومی سلامتی کے خطرات قرار دیا جائے۔
رپورٹ کے مطابق یہ تجویز اُس وقت سامنے آئی جب ٹرمپ انتظامیہ کے بعض اہلکار اس بات پر غور کر رہے تھے کہ وفاقی حکومت کس طرح امریکی ریاستوں سے انتخابات کے انتظامی اختیارات اپنے کنٹرول میں لے سکتی ہے۔
امریکی آئین کے تحت انتخابات کرانے کا اختیار ریاستی حکومتوں کے پاس ہوتا ہے تاکہ وفاقی حکومت انتخابی عمل پر قبضہ نہ کر سکے۔
ذرائع کے مطابق کرٹ اولسن قومی سطح پر ہاتھ سے گنے جانے والے کاغذی بیلٹ کا نظام چاہتے تھے، جو ڈونلڈ ٹرمپ کا بھی ایک دیرینہ مطالبہ رہا ہے۔ تاہم انتخابی سیکیورٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ مکمل ہاتھ سے گنتی والا نظام موجودہ مشینوں کے مقابلے میں زیادہ غلطیوں اور دھاندلی کے خطرات پیدا کرسکتا ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ ستمبر میں امریکی محکمہ تجارت کے بعض اہلکاروں نے اس منصوبے پر غور بھی شروع کردیا تھا، تاہم بعد ازاں یہ کوشش اس وقت ناکام ہوگئی جب اولسن اور ان کے ساتھی ووٹنگ مشینوں کے خلاف کوئی قابلِ قبول ثبوت فراہم نہ کرسکے۔
رپورٹ کے مطابق اس معاملے میں تلسی گبارڈ کے دفتر کے سینئر اہلکار پال میک نامارا اور وائٹ ہاؤس کے خصوصی معاون برائن سکما بھی شامل تھے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اولسن کی ٹیم خاص طور پر اس سازشی نظریے کو ثابت کرنے کی کوشش کر رہی تھی کہ 2020 کے صدارتی انتخابات میں ڈومینین مشینوں کے ذریعے ووٹ تبدیل کیے گئے تھے اور ان میں وینزویلا سے منسلک کوڈ استعمال ہوا تھا۔ تاہم متعدد تحقیقات، عدالتوں اور دو جماعتی جائزوں میں اس دعوے کا کوئی ثبوت نہیں ملا۔
2023 میں امریکی نشریاتی ادارے فاکس نیوز نے ڈومینین کے خلاف ہتکِ عزت کے مقدمے میں 787 ملین ڈالر ادا کیے تھے، کیونکہ چینل نے انتخابی دھاندلی سے متعلق جھوٹے دعوے نشر کیے تھے۔
رپورٹ کے مطابق 2025 میں اولسن نے ایک وفاقی مشن کی قیادت بھی کی، جس کے تحت پورٹو ریکو میں استعمال ہونے والی ڈومینین ووٹنگ مشینوں کو قبضے میں لیا گیا اور ان کا فرانزک جائزہ لیا گیا۔
بعد ازاں سائبر سیکیورٹی کمپنی کی رپورٹ میں بعض تکنیکی کمزوریاں تو سامنے آئیں، لیکن کسی غیرملکی ہیکنگ یا وینزویلا سے متعلق کوڈ کے شواہد نہیں ملے۔
رائٹرز کے مطابق اولسن کی ٹیم نے بعض مشینوں کو کھول کر ان میں نصب چپس کا جائزہ لیا، تاہم انہیں زیادہ تر امریکی، جاپانی، جنوبی کوریائی اور ملائیشین ساختہ پرزے ملے۔
ذرائع کے مطابق رپورٹ میں ان پرزوں کو صرف مشرقی ایشیائی قرار دیا گیا تاکہ کسی واضح نتیجے سے گریز کیا جاسکے۔
دوسری جانب وائٹ ہاؤس کے ترجمان ڈیوس انگل نے اس رپورٹ کو منتخب معلومات پر مبنی گمراہ کن خبر قرار دیا، جب کہ قومی انٹیلی جنس کے دفتر کی ترجمان اولیویا کولمین نے بھی رپورٹ میں موجود بعض دعوؤں کو غلط قرار دیا۔
انتخابی شفافیت کے ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکا کے 98 فیصد سے زائد انتخابی حلقوں میں پہلے ہی ووٹوں کا کاغذی ریکارڈ موجود ہوتا ہے اور موجودہ نظام میں الیکٹرانک مشینوں کے ساتھ تصدیق شدہ پیپر ٹریل استعمال کی جاتی ہے، جسے محفوظ اور قابلِ آڈٹ تصور کیا جاتا ہے۔







