وائٹ ہاؤس کی جانب سے جاری بیان کے مطابق اس منصوبے کے تحت مصنوعی ذہانت کا استعمال کرتے ہوئے دائمی بیماریوں کی بنیادی وجوہات معلوم کرنے، نئی ادویات کی دریافت کے عمل کو تیز کرنے، زیادہ مضبوط اور دیرپا تعمیراتی مواد تیار کرنے اور دیگر پیچیدہ سائنسی مسائل کے حل پر کام کیا جائے گا۔

صدر ٹرمپ کے چیف ٹیکنالوجی مشیر مائیکل کریٹسیوس نے میڈیا کو بتایا کہ اس منصوبے میں شامل سائنس دانوں کو امریکی محکمہ توانائی  کے جدید سپر کمپیوٹرز، مصنوعی ذہانت کے طاقتور ماڈلز، خصوصی ڈیٹا سیٹس اور دیگر تحقیقی وسائل تک رسائی فراہم کی جائے گی تاکہ وہ جدید الگورتھمز کی مدد سے سائنسی تجربات اور تحقیق کر سکیں۔

انہوں نے بتایا کہ اس قومی منصوبے میں 15 وفاقی ادارے شریک ہوں گے، جن میں صحت و انسانی خدمات، توانائی، دفاع، ٹرانسپورٹ اور داخلہ کی وزارتیں سمیت دیگر اہم سرکاری ادارے شامل ہیں۔ ان کے بقول وائٹ ہاؤس مختلف اداروں کو ایک مشترکہ پلیٹ فارم پر لا کر مصنوعی ذہانت کے ذریعے سائنسی تحقیق کو نئی سمت دینا چاہتا ہے۔

دوسری جانب ٹرمپ انتظامیہ وفاقی تحقیقاتی فنڈنگ کے نظام میں بھی بڑی تبدیلیاں متعارف کرانے کا ارادہ رکھتی ہے۔ وائٹ ہاؤس کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق آئندہ تحقیقی فنڈز کا زیادہ حصہ جامعات کے بجائے براہِ راست انفرادی سائنس دانوں اور اے آئی پر مبنی تحقیقی منصوبوں کو دینے کی تجویز دی گئی ہے، جس سے حکومت کو فنڈز کے استعمال پر زیادہ اختیار حاصل ہوگا۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ "وفاقی سطح پر سائنسی تحقیق کی مالی معاونت عوام اور حکومت کے سامنے جوابدہ ہونی چاہیے۔"

یاد رہے کہ صدر ٹرمپ اپنی دوسری مدتِ صدارت کے دوران وفاقی تحقیقی فنڈز کی تقسیم کے نظام میں مزید حکومتی نگرانی لانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ تاہم اس حوالے سے وفاقی عدالتیں بعض اقدامات پر اعتراض بھی کر چکی ہیں۔ رواں سال جنوری میں ایک امریکی اپیل عدالت نے فیصلہ دیا تھا کہ ٹرمپ انتظامیہ نیشنل انسٹی ٹیوٹس آف ہیلتھ کی جانب سے جامعات کو فراہم کی جانے والی سائنسی اور طبی تحقیق کی گرانٹس میں یکطرفہ کٹوتی نہیں کر سکتی۔

ماہرین کے مطابق مصنوعی ذہانت کے جدید ماڈلز کو مؤثر انداز میں کام کرنے کے لیے وسیع اور معیاری ڈیٹا درکار ہوتا ہے، جبکہ امریکی حکومت کے پاس دنیا کے بڑے ترین ڈیٹا ذخائر موجود ہیں، جن میں کیمیائی مرکبات، اہم معدنیات، مریضوں کی صحت کے ریکارڈ اور دیگر سائنسی معلومات شامل ہیں۔ اس منصوبے کے ذریعے انہی ڈیٹا سیٹس پر اے آئی ماڈلز کو تربیت دے کر نئی سائنسی دریافتوں کی راہ ہموار کی جائے گی۔

مزید پڑھیں: جاپان میں مصنوعی ذہانت کے فروغ کے لیے اینویڈیا کا بڑا اعلان

اس منصوبے کو نجی شعبے کی بھی حمایت حاصل ہے۔ ٹیکنالوجی کمپنی مائیکروسافٹ نے اعلان کیا ہے کہ وہ آئندہ تین برس کے دوران 4 کروڑ ڈالر مالیت کے اے آئی کمپیوٹنگ کریڈٹس فراہم کرے گی تاکہ اس قومی تحقیقی پروگرام کو تقویت دی جا سکے۔