اس اضافے کے بعد  زینگ یامنگ مکیش امبانی کو پچھے چھوڑ کر ایشیا کے دوسرے اور دنیا کے 21  امیر ترین آدمی بن گئے ، جب کہ انڈین سرمایہ دار گوتم اڈانی 117 ارب ڈالرز کے ساتھ ایشیا کے امیرترین اور  دنیا کے 17 امیر شخص  ہیں۔

بائیٹ ڈانس کا تخلیق کردہ اے آئی اسٹنٹ چیٹ بوٹ ڈوباؤ بڑے پیمانے پر مقبول ہو رہا یے اس کے صارفین کی تعداد 30 کروڑ سے زائد ہوچکی ہے ۔

ایشیا اور چین کے امیر ترین افراد میں سے ایک ہونے کے باوجود زینگ یامنگ خاموش زندگی گزارنا پسند کرتے ہیں ان کی ذاتی زندگی کے بارے میں بہت کم لوگ جانتے ہیں ۔

1983 میں چین کے صوبے فوجیان میں پیدا ہونے والے زینگ یامنگ کے والدین سرکاری ملازم تھے۔

ان کا نام ایک چینی کہاوت پر مشتمل ہے  جس کا مطلب پہلی کوشش میں سب کو حیران کرنا ہے ۔

انہوں نے 2005 میں انجینئرنگ گریجویشن کی اور وہیں شادی بھی کی ، گریجویشن کے بعد انہوں نے کوکسن  کمپنی میں شمولیت اختیار کی ۔ 40 سے 50 افراد کے انچارج کے طور پر فرائض انجام دئیے ۔

انہوں نے مزید بتایا کہ یہ کمپنی میں ٹیکنالوجی کے ذمہ دار تھے لیکن جب پروڈکٹ کو مسائل کا سامنا ہوا تو میں پراڈکٹ پلان میں متحرک ہوگیا، مجھے ساتھیوں نے  ایسا کرنے کے لیے منع کیا لیکن میرا جواب تھا کہ احساس ذمہ داری اور خواہشات آپ کو متعدد کام کرنے کا جذبہ دیتے ہیں اور تجربہ بڑھتا ہے۔

انہی سرگرمیوں کے تجربے نے زینگ یامنگ کو مستقبل میں اپنی کمپنی بنانے میں مدد کی ۔

انہوں نے مزید بتایا کہ مجھے 2007 کا اختتام یاد ہے، میں سیلز ڈائریکٹر کے ساتھ ایک کسٹمر سے ملاقات کے لیے گیا، اس تجربے سے مجھے یہ جاننے کا موقع ملا کہ کونسی سیلز اچھی سیلز ہوتی ہیں، جب میں نے اپنی کمپنی قائم کی اور عملے کو بھرتی کیا تو اس طرح کے تجربات سے مجھے بہت مدد ملی۔

بائیٹ ڈانس کی بنیاد رکھنے سے قبل انہوں نے مائیکرو سافٹ میں بھی ملازمت کی مگر اپنی کمپنی کے لیے اسے چھوڑ دیا۔ 2012 میں انہوں نے بائیٹ ڈانس کی بنیاد رکھی جو اب دنیا بھر میں ٹک ٹاک کے باعث جانی جاتی ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ شروع میں وہ ٹک ٹاک کو استعمال نہیں کرتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ  طویل عرصے تک میں ٹک ٹاک ویڈیوز کبھی کبھار ہی دیکھتا تھا، جب کہ کبھی ویڈیو پوسٹ بھی نہیں کرتا کیونکہ مجھے لگتا تھا کہ یہ ایپ نوجوانوں کے لیے ہے ۔

انہوں نے مزید بتایا کہ  مگر بعد میں ہم نے کمپنی کے تمام افراد کے لیے ٹک ٹاک ویڈیوز بنانا اور لائیکس کی مخصوص تعداد حاصل کرنا لازمی قرار دے دیا، یہ میرے لیے ایک بڑا قدم ثابت ہوا ۔