تائیوان کے شہر تائی پے میں منعقدہ کمپیوٹیکس (Computex) ٹیکنالوجی کانفرنس کے آخری دن تائیوان کوسٹ گارڈ نے چینی بحری جہازوں کو متنازعہ پرٹس جزائر کے قریب وارننگ جاری کی۔
تائیوان کی جانب سے کہا گیا کہ آبنائے تائیوان میں امن عالمی معیشت اور ٹیکنالوجی انڈسٹری کے لیے انتہائی اہم ہے۔
تائیوان دنیا کی سب سے بڑی کنٹریکٹ چِپ ساز کمپنی ٹی ایس ایم سی کا مرکز ہے، جو امریکی کمپنیوں جیسے Nvidia اور Apple کے لیے اہم چپس تیار کرتی ہے۔ اسی طرح Foxconn بھی عالمی ٹیک سپلائی چین میں مرکزی کردار ادا کرتی ہے۔
چین، تائیوان کو اپنی علاقائی خودمختاری کا حصہ قرار دیتا ہے اور گزشتہ برسوں میں اس نے فوجی دباؤ میں اضافہ کیا ہے۔
تائیوان کی وزارت دفاع کے مطابق صرف جون کے ابتدائی دنوں میں 79 چینی جنگی طیارے جزیرے کے قریب پرواز کرتے رہے، جو خطے میں ممکنہ بڑے بحران کی نشاندہی ہے۔
Taiwan isn’t just building AI infrastructure, it’s powering the world’s AI factory buildout. 👏
— NVIDIA (@nvidia) June 2, 2026
From fabs to factory floors, leaders like TSMC, Foxconn, QCT, Pegatron, and Wistron are using accelerated computing, digital twins, and AI agents to transform how AI systems are… pic.twitter.com/E50uZG0t3l
دوسری جانب امریکی اور عالمی ٹیکنالوجی رہنما تائیوان کو AI انڈسٹری کا “مرکز” قرار دے رہے ہیں۔ Nvidia کے سی ای او نے حال ہی میں کہا کہ کمپنی تائیوان میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری جاری رکھے گی، جب کہ ماہرین کے مطابق عالمی AI انڈسٹری کا بڑا انحصار اسی خطے پر ہے۔
امریکی تھنک ٹینک ہڈسن انسٹیٹیوٹ کے ماہر ڈیوڈ فیتھ نے خبردار کیا ہے کہ بیجنگ سے آنے والے خطرات کو عالمی مارکیٹس اور حکومتیں سنجیدگی سے نہیں لے رہیں، حالانکہ یہ ایک بڑے بحران کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔
تائیوان کے صدر لائی چنگ-تے نے کمپیوٹیکس کانفرنس سے خطاب میں کہا کہ حکومت آبنائے تائیوان میں امن و استحکام کے لیے پرعزم ہے اور یہی عالمی سپلائی چین کے لیے ان کا ذمہ دارانہ وعدہ ہے۔
ماہرین کے مطابق تائیوان نہ صرف جدید چِپ سازی کا عالمی مرکز ہے بلکہ مستقبل کی اے آئی ٹیکنالوجی کی بنیاد بھی اسی خطے میں موجود ہے، جس کے باعث چین اور امریکہ کے درمیان کشیدگی عالمی معیشت کے لیے خطرہ بنتی جا رہی ہے۔






