حکام کے مطابق نئے ڈیجیٹل نظام کے تحت تعمیراتی اجازت ناموں کے حصول کا پورا عمل آن لائن کردیا جائے گا تاکہ شہریوں، بلڈرز، آرکیٹیکٹس اور انجینئرز کو دفاتر کے چکر نہ لگانے پڑیں اور تمام مراحل ایک ہی پلیٹ فارم سے مکمل ہوسکیں۔
ایس بی سی اے کے مطابق اس جدید نظام میں آن لائن درخواستوں کی سہولت، ای پیمنٹ، ریئل ٹائم ٹریکنگ، ایس ایم ایس الرٹس، ای سرٹیفکیشن، ڈیجیٹل منظوری، موبائل ایپلیکیشن، ای پورٹل، ڈائنامک ویب سائٹ، سیکیورٹی فیچرز، کورئیر سروسز اور مختلف اداروں کے درمیان مربوط رابطے جیسی جدید سہولیات شامل ہوں گی۔
حکام کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے نہ صرف تعمیراتی اجازت ناموں کے اجرا میں تیزی آئے گی بلکہ شفافیت کو بھی یقینی بنایا جاسکے گا، جبکہ کرپشن اور غیرضروری تاخیر کے امکانات میں نمایاں کمی متوقع ہے۔
مجوزہ طریقہ کار کے تحت کیٹیگری ون کے کیسز، جن میں رہائشی پلاٹس اور بنگلے شامل ہیں، 15 روز کے اندر نمٹائے جائیں گے، بشرطیکہ تمام ضروری دستاویزات اور قانونی تقاضے مکمل ہوں۔ اس میں مخصوص شرائط کے تحت 399 مربع گز تک کے رہائشی پلاٹس اور اس سے زائد رقبے پر مشتمل رہائشی بنگلوں کے کیسز بھی شامل ہوں گے۔
ایس بی سی اے حکام کے مطابق کیٹیگری ٹو اور کیٹیگری تھری سے متعلق تعمیراتی کیسز متعلقہ ضلعی دفاتر میں موجودہ قواعد و ضوابط کے تحت پراسیس کیے جائیں گے، تاہم ان کی نگرانی اور ریکارڈ بھی ڈیجیٹل نظام سے منسلک ہوگا۔
اسی طرح کیٹیگری فور کے کیسز، جن میں عوامی استعمال، عوامی فروخت اور صنعتی عمارتوں سے متعلق منصوبے شامل ہیں، انہیں خصوصی ون ونڈو سیل کے ذریعے نمٹایا جائے گا۔ جبکہ بڑے ٹاؤن پلاننگ اور لینڈ ڈیولپمنٹ منصوبے، جو کیٹیگری فائیو میں آتے ہیں، وہ بھی جدید ون ونڈو سسٹم کے تحت پراسیس ہوں گے۔
اس منصوبے کا بنیادی مقصد شہری خدمات کو جدید خطوط پر استوار کرنا اور تعمیراتی شعبے میں ڈیجیٹل اصلاحات لانا ہے تاکہ عوام کو زیادہ مؤثر اور قابلِ اعتماد نظام فراہم کیا جاسکے۔
یاد رہے کہ حکومتِ سندھ اس سے قبل بھی صوبے میں ای گورننس اور ڈیجیٹلائزیشن کے مختلف منصوبوں کا اعلان کرچکی ہے۔ رواں ماہ کے آغاز میں حکومت نے اعلان کیا تھا کہ ایس بی سی اے ایک ماہ کے اندر تعمیراتی اجازت ناموں کی تمام کیٹیگریز کو مکمل طور پر خودکار نظام میں منتقل کرے گی۔
ڈائریکٹوریٹ آف پریس انفارمیشن کے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ منصوبہ سندھ حکومت کے وسیع ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن پروگرام کا حصہ ہے، جس کے ذریعے شہری نظم و نسق، شفافیت اور عوامی خدمات کی فراہمی کو عالمی معیار کے مطابق بنایا جائے گا۔
یاد رہے کہ اگر یہ نظام مؤثر انداز میں نافذ ہوگیا تو کراچی سمیت سندھ بھر میں تعمیراتی شعبے میں نئی بہتری آئے گی، سرمایہ کاری میں اضافہ ہوگا اور شہریوں کو اجازت ناموں کے حصول میں درپیش مشکلات میں نمایاں کمی آسکے گی۔







