غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق اسپاٹائف نے اپنی 20 ویں سالگرہ کی تقریبات کے سلسلے میں ایپ آئیکن کو عارضی طور پر تبدیل کرتے ہوئے سبز رنگ کے چمکدار ڈسکو بال ڈیزائن کو متعارف کرایا تھا، تاہم یہ تبدیلی صارفین کو پسند نہ آئی اور سوشل میڈیا پر کمپنی کو شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔

کمپنی کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ “چمک دمک ہر کسی کے لیے نہیں ہوتی”، اسی لیے آئندہ ہفتے سے دوبارہ روایتی اسپاٹائف لوگو بحال کردیا جائے گا۔ اسپاٹائف نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بھی تصدیق کی کہ ڈسکو بال ڈیزائن صرف سالگرہ کی تقریبات کے لیے عارضی تبدیلی تھی۔

اسپاٹائف کے مطابق نئے لوگو میں برانڈ کی پہچان برقرار رکھتے ہوئے کلاسک ساؤنڈ ویو لائنوں کو ایک چمکدار گرین ڈسکو بال میں تبدیل کیا گیا تھا تاکہ پلیٹ فارم کے 20 سال مکمل ہونے کی خوشی کو منفرد انداز میں منایا جاسکے۔

صارفین نے اس تبدیلی پر سخت ردعمل دیا۔ کئی صارفین نے سوشل میڈیا پر نئے آئیکن کو “بدصورت” اور “غیر ضروری” قرار دیا، جبکہ ایک صارف نے یہاں تک لکھ دیا کہ “جس شخص نے یہ لوگو ڈیزائن کیا اسے فوری طور پر ملازمت سے نکال دینا چاہیے۔”

بعض صارفین نے شکایت کی کہ نئے لوگو کی وجہ سے موبائل اسکرین پر ایپ کو پہچاننا مشکل ہوگیا تھا، جبکہ کچھ نے کہا کہ اسپاٹائف کا سادہ اور کلاسک ڈیزائن ہی اس کی اصل شناخت ہے جسے تبدیل نہیں کیا جانا چاہیے تھا۔

کمپنی نے واضح کیا ہے کہ ڈسکو بال لوگو کو مستقل طور پر متعارف کرانے کا کوئی ارادہ نہیں تھا، بلکہ یہ صرف محدود مدت کی تشہیری مہم کا حصہ تھا۔ تاہم عوامی ردعمل کے بعد اس کی واپسی کا اعلان متوقع وقت سے پہلے کردیا گیا۔

رپورٹس کے مطابق بعض صارفین کے فونز پر پہلے ہی پرانا لوگو واپس آنا شروع ہوگیا ہے، جبکہ مکمل بحالی آئندہ چند دنوں میں کردی جائے گی۔

دوسری جانب اسپاٹائف نے اپنی 20 ویں سالگرہ کے موقع پر “پارٹی آف دی ایئر” نامی خصوصی فیچر بھی متعارف کرایا ہے، جس کے ذریعے صارفین اپنی گزشتہ کئی برسوں کی میوزک ہسٹری اور پسندیدہ گانوں کا جائزہ لے سکتے ہیں۔ یہ فیچر محدود مدت کے لیے دستیاب ہوگا۔

یاد رہے کہ  بڑے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کی جانب سے لوگو یا انٹرفیس میں تبدیلیاں اکثر صارفین کی فوری توجہ حاصل کرتی ہیں، تاہم اگر نئی تبدیلی برانڈ کی پہچان سے مطابقت نہ رکھے تو شدید عوامی ردعمل سامنے آنا عام بات ہے۔

واضح رہے  کہ اسپاٹائف کے حالیہ فیصلے سے ظاہر ہوتا ہے کہ بڑی ٹیک کمپنیاں بھی صارفین کی رائے اور سوشل میڈیا دباؤ کو نظر انداز نہیں کرسکتیں، خصوصاً جب معاملہ برانڈ کی شناخت سے متعلق ہو۔