یوکرین نے ایسے درمیانی فاصلے کے ڈرون تیار کیے ہیں جو محاذِ جنگ سے درجنوں کلومیٹر دور اہداف کو کم لاگت اور زیادہ درستگی کے ساتھ نشانہ بنا سکتے ہیں۔ ان میں سے بیشتر ڈرون اسٹارلنک کے ذریعے کنٹرول کیے جاتے ہیں، جس نے جنگ میں یوکرین کی صلاحیتوں میں نمایاں اضافہ کیا ہے۔
اس سال یوکرین نے ان ڈرونز کے ذریعے روسی سپلائی لائنز، ایندھن کے ذخائر، فضائی دفاعی تنصیبات اور کمانڈ سینٹرز کو نشانہ بنایا، جس سے روسی افواج کی رسد متاثر ہوئی اور روس کے زیر قبضہ کریمیا میں ایندھن کی قلت پیدا ہوئی۔
تاہم، جنوبی زاپوریژیا میں تعینات یوکرین کی 422ویں بغیر پائلٹ نظام رجمنٹ کے چار ڈرون کمانڈروں اور پائلٹس نے میڈیا کو بتایا کہ روس اب ان حملوں سے بچنے کے لیے مختلف نئی حکمتِ عملیاں اپنا رہا ہے۔
یوکرینی اہلکاروں کے مطابق روس فوجی سامان، خصوصاً ایندھن، کو شہری گاڑیوں میں منتقل کر رہا ہے تاکہ انہیں آسانی سے نشانہ نہ بنایا جا سکے۔ اس کے علاوہ روس نے قصبوں اور فوجی تنصیبات کے قریب جدید الیکٹرانک جیمنگ سسٹمز نصب کیے ہیں، جو ڈرونز اور بعض صورتوں میں اسٹارلنک کے سگنلز میں بھی خلل ڈال سکتے ہیں۔
یوکرین کی وزارتِ دفاع کے مشیر سرہی بیسکریستنوف کے مطابق روس "وولنا کوپول گارنٹ" نامی جیمنگ سسٹم استعمال کر رہا ہے، جو تقریباً 20 مربع کلومیٹر کے علاقے میں اسٹارلنک کنکشن کو غیر مستحکم کر سکتا ہے۔ اب تک ایسے تقریباً 10 سسٹمز کی نشاندہی ہو چکی ہے۔
یوکرینی ڈرون یونٹس ان جیمنگ سسٹمز کو بھی ترجیحی ہدف بنا رہے ہیں۔ 422ویں رجمنٹ نے یوکرین کی سیکیورٹی سروس کے تعاون سے ایسے دو سسٹمز کو نشانہ بنایا۔ ایک کارروائی کے دوران ڈرون حملے کے بعد چھ بڑے ٹریلر نما یونٹس پر مشتمل تنصیب زوردار دھماکے سے تباہ ہو گئی۔
رجمنٹ کے ایک کمانڈر، جن کا کال سائن "ڈیریہینت" ہے، نے بتایا: جیسے ہی ہم نے اس تنصیب کو تباہ کیا، ہمارے اسٹارلنک سے لیس ڈرونز بغیر کسی رکاوٹ کے پرواز کرنے لگے۔"
رپورٹ کے مطابق ایلون مسک پہلے ہی روسی افواج کی اسٹارلنک تک رسائی محدود کر چکے ہیں تاکہ روس اسے اپنے ڈرون حملوں میں استعمال نہ کر سکے۔
مزید پڑھیں: اے آئی پر بھاری سرمایہ کاری، مائیکروسافٹ نے تقریباً 4,800 ملازمین فارغ کر دیے
بین الاقوامی میڈیا کی ٹیم نے 422ویں رجمنٹ کے دورے کے دوران یہ بھی دیکھا کہ یوکرینی فوجی رات کی تاریکی میں ہیڈ لیمپس کی مدھم سرخ روشنی میں ایک وِنگڈ ڈرون میں انتہائی طاقتور دھماکہ خیز وار ہیڈ نصب کر رہے تھے، جس کے بعد ڈرون کا انجن گرجتا ہوا چل پڑا۔







