پی ٹی اے کی جانب سے جاری ایڈوائزری میں کہا گیا ہے کہ موبائل نمبر اب صرف رابطے کا ذریعہ نہیں بلکہ شہریوں کی ڈیجیٹل شناخت کا اہم حصہ بن چکے ہیں، اس لیے صارفین کو اپنی سموں کی بروقت تصدیق اور فعال حیثیت یقینی بنانا ہوگی۔
اتھارٹی کے مطابق ایسے صارفین جن کے واٹس ایپ اکاؤنٹس غیر تصدیق شدہ یا بند سموں سے جڑے ہوئے ہیں، انہیں اپنے چیٹس، رابطوں، میڈیا فائلز اور دیگر ذاتی معلومات تک رسائی کھونے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
پی ٹی اے نے شہریوں کو مشورہ دیا ہے کہ اگر ان کا موجودہ نمبر غیر فعال ہو چکا ہے یا رجسٹریشن میں مسئلہ موجود ہے تو فوری طور پر اپنے واٹس ایپ اکاؤنٹ کو کسی فعال اور بائیو میٹرک تصدیق شدہ سم پر منتقل کریں،بروقت معلومات اپ ڈیٹ نہ کرنے کی صورت میں صارفین غیر متوقع لاگ آؤٹ اور اکاؤنٹ ریکوری میں مشکلات کا شکار ہو سکتے ہیں۔
ٹیلی کام ریگولیٹر نے مزید کہا کہ اگر کسی صارف کو بائیو میٹرک ویری فکیشن یا سم کی دوبارہ تصدیق درکار ہو تو وہ قریبی موبائل فرنچائز یا کسٹمر سروس سینٹر سے رجوع کرے۔
پی ٹی اے کے مطابق اس اقدام کا مقصد موبائل اور ڈیجیٹل سروسز کو محفوظ بنانا، جعلی شناخت کے استعمال کی روک تھام کرنا اور صارفین کے ذاتی ڈیٹا کا تحفظ یقینی بنانا ہے۔
مزید پڑھیں: انٹیل کور آئی نائن 14900 کے ایف نے دنیا کی تیز ترین سی پی یو رفتار کا نیا ریکارڈ قائم کر دیا
ادارے نے اپنی آگاہی مہم کے دوران شہریوں کو پیغام دیا کہ:
“اپنے واٹس ایپ کی حفاظت کریں، اپنی ڈیجیٹل شناخت محفوظ بنائیں۔”







