اس بڑے بین الاقوامی ای اسپورٹس ایونٹ میں دنیا بھر کی 32 بہترین ٹیموں نے حصہ لیا، جبکہ مقابلے کے لیے مجموعی انعامی رقم 5 لاکھ امریکی ڈالر مقرر تھی، پاکستان کی نمائندگی کرنے والی ٹیم فور تھریوز نے سخت مقابلے کے باوجود کوالیفائنگ مرحلے کے آخری موقع (لاسٹ چانس کوالیفائر) سے ٹورنامنٹ میں جگہ بنائی اور فائنل تک رسائی حاصل کی۔
فائنل مرحلے کے پہلے دن پاکستانی ٹیم نے غیر معمولی کارکردگی دکھاتے ہوئے چھ میچز میں مجموعی طور پر 82 پوائنٹس حاصل کیے اور ٹیبل پر پہلی پوزیشن حاصل کر لی، جس کے بعد انہیں عالمی ٹائٹل کے لیے مضبوط امیدوار سمجھا جانے لگا۔
ٹورنامنٹ کے دوسرے دن قواعد کے مطابق "سمیش رول" نافذ کیا گیا، جس کے تحت ٹاپ ٹیم کے پوائنٹس میں 10 اضافی پوائنٹس شامل کر کے ایک ہدف مقرر کیا جاتا ہے۔ اس اصول کے تحت فائنل دن کے لیے مطلوبہ سمیش پوائنٹس 92 مقرر کیے گئے، جس نے مقابلے کو مزید سنسنی خیز بنا دیا۔
قواعد کے مطابق جو بھی ٹیم اس ہدف کو عبور کرتی، اسے اسی میچ میں کامیابی (چکن ڈنر) حاصل کرنا لازمی تھا، بصورت دیگر فیصلہ مجموعی پوائنٹس کی بنیاد پر کیا جانا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ آخری دن ہر میچ انتہائی دباؤ اور سخت مقابلے کا منظر پیش کرتا رہا۔
فور تھریوز نے دوسرے دن کا آغاز جارحانہ انداز میں کیا اور پہلے ہی میچ میں سمیش رول کی حد عبور کرتے ہوئے اہم 20 پوائنٹس حاصل کر لیے، تاہم اس کے بعد کے چار میچز میں ٹیم کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا اور وہ اپنی برتری برقرار نہ رکھ سکی۔
دوسری جانب ٹیم یو ایل ایف نے بھی شاندار کھیل کا مظاہرہ کرتے ہوئے سمیش پوائنٹس کی حد عبور کر لی، جس کے بعد دونوں ٹیموں کے درمیان مقابلہ انتہائی دلچسپ مرحلے میں داخل ہو گیا۔
مزید پڑھیں: اوپن اے آئی نے فوری انجیکشن حملوں کو روکنے کے لیے نئے لاک ڈاؤن موڈ کا اعلان کر دیا
فائنل میچ سے قبل صورتحال یہ تھی کہ فور تھریوز کے 113 پوائنٹس تھے جبکہ یو ایل ایف 104 پوائنٹس کے ساتھ ان کے قریب موجود تھی۔ فیصلہ کن معرکے میں دونوں ٹیمیں چکن ڈنر حاصل کرنے میں ناکام رہیں، جس کے بعد ٹورنامنٹ کے قواعد کے مطابق مجموعی پوائنٹس کی بنیاد پر فاتح کا فیصلہ کیا گیا۔
اس طرح فور تھریوز نے مجموعی طور پر 122 پوائنٹس کے ساتھ نہ صرف مقابلہ جیت لیا بلکہ عالمی چیمپئن کا اعزاز بھی اپنے نام کر لیا۔ ٹیم کی اس کامیابی کو پاکستانی ای اسپورٹس کی تاریخ کا ایک اہم سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے۔
واضح رہے کہ یہ فتح نہ صرف پاکستانی گیمنگ کمیونٹی کے لیے ایک بڑی کامیابی ہے بلکہ اس سے ملک میں ای اسپورٹس کے مستقبل کے امکانات بھی مزید روشن ہو گئے ہیں۔ کھلاڑیوں اور شائقین نے اس کامیابی کو پاکستان کے لیے فخر کا لمحہ قرار دیا ہے۔







