این ای ڈی یونیورسٹی میں منعقدہ تقریب میں صوبائی وزراء، چیف سیکریٹری، سندھ ہائر ایجوکیشن کمیشن، گوگل فار ایجوکیشن، ٹیک ویلی پاکستان اور یونیورسٹی حکام نے شرکت کی۔
وزیراعلیٰ نے گوگل کیریئر سرٹیفیکیشن پروگرام 2026 کا افتتاح بھی کیا، جبکہ سائنس اینڈ آئی ٹی ڈیپارٹمنٹ، سندھ ہائر ایجوکیشن کمیشن اور ٹیک ویلی پاکستان کے درمیان مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کا مشاہدہ کیا۔
اس پروگرام کے تحت سندھ کی تمام سرکاری جامعات کے طلبہ کو مصنوعی ذہانت ، سائبر سیکیورٹی، ڈیٹا اینالیٹکس، پروجیکٹ مینجمنٹ، یو ایکس ڈیزائن، ڈیجیٹل مارکیٹنگ، ای کامرس، آئی ٹی سپورٹ اور دیگر شعبوں میں بین الاقوامی معیار کی گوگل سرٹیفکیشنز کے لیے 20 ہزار وظائف فراہم کیے جائیں گے۔
اس سے قبل وزیراعلیٰ ہاؤس میں گوگل فار ایجوکیشن کے عالمی ماہرین نے کابینہ کے ارکان، مشیروں اور معاونین خصوصی کو مصنوعی ذہانت کے استعمال سے متعلق عملی تربیت بھی فراہم کی۔
وزیراعلیٰ مراد علی شاہ نے کہا کہ مصنوعی ذہانت موجودہ دور کی سب سے انقلابی ٹیکنالوجی ہے، جسے دنیا بھر کی حکومتیں فیصلہ سازی اور عوامی خدمات کو بہتر بنانے کے لیے استعمال کر رہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اے آئی صحت، تعلیم، زراعت، شہری منصوبہ بندی، ڈیزاسٹر مینجمنٹ، مالیات اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سمیت مختلف شعبوں میں کارکردگی بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے، تاہم یہ انسانی فیصلوں کا متبادل نہیں بلکہ معاون ہونی چاہیے۔
مزید پڑھیں: واٹس ایپ کا نیا فیچر: اب فون نمبر دیے بغیر بھی رابطہ ممکن، مگر کیسے؟
بعد ازاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ نے وفاقی حکومت پر مالی واجبات کی عدم ادائیگی کا شکوہ کرتے ہوئے کہا کہ جون میں سندھ کو نظرثانی شدہ تخمینوں کے مطابق 175 ارب روپے ملنے تھے، مگر صرف 91 ارب روپے جاری کیے گئے، جس سے صوبے کو 84 ارب روپے کی کمی کا سامنا کرنا پڑا۔
انہوں نے کراچی سمیت سندھ بھر میں 12 سے 18 گھنٹے کی بجلی کی لوڈشیڈنگ پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ طویل بجلی بندش عوام کے لیے شدید مشکلات کا باعث بن رہی ہے اور اس مسئلے کا فوری حل نکالنا ضروری ہے۔







