رپورٹ کے مطابق میٹا کا نیا ڈیٹا سینٹر چپ، جس کا کوڈ نام "آئرس" ہے، کمپنی کے میٹا ٹریننگ انترفرینس ایکسلریشن منصوبے کا حصہ ہے۔ اس چپ کو میٹا نے اپنی ضروریات کے مطابق تیار کیا ہے تاکہ فیس بک، انسٹاگرام اور دیگر اے آئی سروسز کی کارکردگی مزید بہتر بنائی جا سکے۔
اندرونی میمو کے مطابق چپ کی آزمائشی جانچ صرف چھ ہفتوں میں مکمل ہوئی اور اس دوران کوئی بڑا تکنیکی مسئلہ سامنے نہیں آیا، جسے کمپنی کے اندرونی چپ پروگرام کے لیے ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
میٹا اس منصوبے میں براڈکام کے ساتھ چپ ڈیزائن جبکہ تائیوان سیمی کنڈکٹر مینوفیکچرنگ کمپنی کے ساتھ چپ کی تیاری پر کام کر رہی ہے۔ کمپنی کا مقصد اینویڈیا اور اے ایم ڈی جیسے بیرونی سپلائرز پر انحصار کم کرتے ہوئے کمپیوٹنگ اخراجات میں نمایاں کمی لانا ہے۔
رپورٹ کے مطابق میٹا رواں سال سات گیگا واٹ کمپیوٹنگ انفراسٹرکچر نصب کرے گی، جبکہ 2027 تک اسے بڑھا کر 14 گیگا واٹ کر دیا جائے گا۔ کمپنی رواں برس مصنوعی ذہانت کے انفراسٹرکچر پر 145 ارب ڈالر تک خرچ کرنے کا ارادہ رکھتی ہے، جو عالمی سطح پر بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی اے آئی سرمایہ کاری کا اہم حصہ ہوگا۔
کمپیوٹنگ انفراسٹرکچر کی توسیع کے لیے میٹا نے سام سنگ الیکٹرانکس، سان ڈسک اور سومیٹومو الیکٹرک سمیت کئی کمپنیوں کے ساتھ طویل المدتی سپلائی معاہدے بھی کیے ہیں تاکہ میموری چپس، فلیش اسٹوریج اور فائبر آپٹک آلات کی مسلسل فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔
مزید پڑھیں: روس کا نیا دفاعی حربہ، اسٹارلنک سگنلز میں خلل ڈالنے والے سسٹمز نصب
ماہرین کے مطابق مصنوعی ذہانت کی بڑھتی ہوئی ضروریات کے باعث میموری اور اے آئی چپس کی عالمی طلب میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے، جس کے نتیجے میں ان کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ تجزیہ کار اس رجحان کو "چپ فلیشن" قرار دے رہے ہیں، جو اب عالمی معیشت کے لیے بھی ایک اہم چیلنج بنتا جا رہا ہے۔







