یہ اضافہ ایپل کی سب سے بڑی آمدنی کا ذریعہ آئی فون پر لاگو نہیں ہوگا، تاہم کم قیمت لیپ ٹاپ مارکیٹ میں ونڈوز اور کروم بُک ڈیوائسز کا مقابلہ کرنے کے لیے متعارف کرایا گیا میک بک نیو اب 599 ڈالر کے بجائے 699 ڈالر میں فروخت ہوگا، حالانکہ اسے چند ماہ قبل ہی متعارف کرایا گیا تھا۔
یہ پیش رفت ظاہر کرتی ہے کہ دنیا کی سب سے قیمتی صارفین کی الیکٹرانکس کمپنی بھی میموری چپس کی قیمتوں میں غیرمعمولی اضافے کے اثرات سے محفوظ نہیں، حالانکہ اس کے سپلائی چین تعلقات صنعت میں مثالی سمجھے جاتے ہیں۔
میموری چپس بنانے والی کمپنیوں، خصوصاً مائیکرون نے حالیہ مہینوں میں این ویڈیا جیسے مصنوعی ذہانت کے چپس تیار کرنے والے اداروں کے آرڈرز کو ترجیح دی، جس سے ان کے منافع میں ریکارڈ اضافہ ہوا، تاہم اس کے نتیجے میں اسمارٹ فون اور کمپیوٹر ساز کمپنیوں کے لیے چپس کی فراہمی محدود ہو گئی۔
Apple has hiked prices on some of its most popular products, including the MacBook and iPad, because of the rising costs of memory and storage chips sparked by the AI boom. https://t.co/bwx3iteAnS pic.twitter.com/3REMHkGZ0i
— CNN (@CNN) June 25, 2026
ایپل نے ایک بیان میں کہا کہ ہم نے کبھی کسی پرزے کی قیمتوں میں اتنا بڑا اور اتنی تیزی سے اضافہ نہیں دیکھا۔ اب تک ہم نے صارفین کو اس کے اثرات سے محفوظ رکھا، مگر اب ہمیں آئی پیڈ اور میک سمیت کئی مصنوعات کی قیمتیں بڑھانا پڑ رہی ہیں۔
کمپنی کی ویب سائٹ کے مطابق 512 جی بی اسٹوریج والے میک بک ایئر کی قیمت 1,099 ڈالر سے بڑھا کر 1,299 ڈالر جبکہ ایک ٹیرا بائٹ اسٹوریج والے میک بک پرو کی قیمت 1,699 ڈالر سے بڑھا کر 1,999 ڈالر کر دی گئی ہے۔ اسی طرح 128 جی بی اسٹوریج والے آئی پیڈ ایئر کی قیمت 599 ڈالر سے بڑھا کر 749 ڈالر کر دی گئی ہے۔
ایپل نے ہوم پوڈ اسمارٹ اسپیکر اور ایپل ٹی وی سیٹ ٹاپ باکس کی قیمتوں میں بھی اضافہ کر دیا، جس کے بعد کمپنی کے حصص تقریباً 5 فیصد گر گئے، جبکہ حریف کمپنی ڈیل ٹیکنالوجیز کے شیئرز میں 8 فیصد سے زیادہ کمی ریکارڈ کی گئی۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایپل کے مقابلے میں دیگر ڈیوائس ساز کمپنیوں کو قیمتوں میں اس سے بھی زیادہ اضافہ کرنا پڑ سکتا ہے کیونکہ ایپل کو اپنے مضبوط سپلائر نیٹ ورک کا فائدہ حاصل ہے۔
ٹیکنالوجی مشاورتی ادارے کری ایٹو اسٹریٹیجیز کے سربراہ بین بجارین کے مطابق میموری مارکیٹ کے حالات انتہائی مشکل ہیں اور مستقبل قریب میں بھی یہی صورتحال برقرار رہنے کا امکان ہے۔
صنعتی تحقیقی ادارے ٹرینڈ فورس کے مطابق تقریباً تمام جدید الیکٹرانک آلات میں استعمال ہونے والی ڈی ریم میموری کی قیمتیں 2026 کی پہلی سہ ماہی میں 98 فیصد تک بڑھ گئیں، جبکہ موجودہ سہ ماہی میں مزید 58 سے 63 فیصد اضافے کی توقع ہے۔
Apple is increasing prices on some of its popular products, including iPads and MacBooks, with the company s online store reflecting the new costs Thursday. https://t.co/QGDxxaOZuj
— ABC News (@ABC) June 25, 2026
ماہرین نے میموری چپس کی قیمتوں میں اس غیرمعمولی اضافے کو راماگیڈن کا نام دیا ہے، جس کی بنیادی وجہ مصنوعی ذہانت کے ڈیٹا سینٹرز کی تیز رفتار تعمیر ہے۔ مائیکرون نے بدھ کو بتایا کہ وہ صارفین کے ساتھ 22 ارب ڈالر مالیت کے طویل المدتی معاہدے کر چکی ہے تاکہ انہیں میموری چپس کی مسلسل فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔
تحقیقی ادارے آئی ڈی سی کے مطابق بڑھتی ہوئی لاگت کے باعث رواں سال عالمی اسمارٹ فون مارکیٹ میں تقریباً 14 فیصد کمی متوقع ہے، جبکہ پرسنل کمپیوٹر مارکیٹ کے 11.3 فیصد سکڑنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔
مارچ میں متعارف کرایا گیا میک بک نیو ان چند روشن پہلوؤں میں شامل تھا جس نے ایپل کی فروخت کے تخمینوں کو سہارا دیا، تاہم قیمت میں اضافے کے بعد اس کی 100 ڈالر کی مسابقتی برتری بھی ختم ہو گئی ہے۔ اب اس کی قیمت گزشتہ ماہ متعارف کرائے گئے ایکس پی ایس 13 لیپ ٹاپ کے برابر 699 ڈالر ہو گئی ہے، جب کہ یہ بعض لینووو اور ایسوس کے کروم بُک ماڈلز سے بھی مہنگا ہو چکا ہے۔







