ماہرین کے مطابق پاکستان میں تعلیم یافتہ نوجوان اور سروس سیکٹر سے وابستہ افراد چیٹ جی پی ٹی اور دیگر اے آئی ٹولز کا استعمال بڑھا رہے ہیں، لیکن AI کے بارے میں محدود آگاہی کے باعث ایک طبقہ اسے روزگار کے لیے خطرہ بھی سمجھتا ہے۔ دوسری جانب نجی شعبہ اخراجات کم کرنے، کارکردگی بہتر بنانے اور پیداواری صلاحیت بڑھانے کے لیے اے آئی کے استعمال کے امکانات کا جائزہ لے رہا ہے۔
پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس کی سابق ڈائریکٹر ریسرچ ڈاکٹر درِ نایاب کا کہنا ہے کہ دنیا میں ابھی تک کوئی بھی شخص اے آئی کے مکمل اثرات کو پوری طرح نہیں سمجھ سکا، اس لیے اس کے مستقبل کے نتائج کے بارے میں حتمی رائے دینا مشکل ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ مصنوعی ذہانت کی کارکردگی مکمل طور پر معیاری اور قابلِ اعتماد ڈیٹا پر منحصر ہوتی ہے۔ اگر حکومتی ڈیٹا نظام بہتر نہ بنایا گیا اور کاروباری اداروں میں شفافیت نہ آئی تو اے آئی مطلوبہ نتائج فراہم نہیں کر سکے گی، بلکہ غلط فیصلوں اور انتظامی مسائل کا سبب بھی بن سکتی ہے۔
دوسری طرف وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے گزشتہ ہفتے اعلان کیا تھا کہ حکومت نے کرپشن پر قابو پانے اور ٹیکس نظام کی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے اے آئی پر مبنی ٹیکس ایڈمنسٹریشن ماڈل متعارف کرا دیا ہے۔
تاہم نجی شعبے سے تعلق رکھنے والے ماہرین کا کہنا ہے کہ حکومت کے ارادے اپنی جگہ، لیکن بیوروکریسی اور سیاسی قیادت میں اے آئی کے حوالے سے آگاہی اور صلاحیت محدود ہے، جس کے باعث اس ٹیکنالوجی سے مکمل فائدہ اٹھانا فی الحال ایک بڑا چیلنج ہے۔
پاکستان بیورو آف شماریات کے چیف اسٹیٹسٹیشن ڈاکٹر نعیم ظفر کے مطابق ادارہ اس وقت سرکاری یا نجی شعبے میں AI کے استعمال سے متعلق کوئی باقاعدہ اعداد و شمار جمع نہیں کرتا۔ پاکستان سوشل اینڈ لیونگ اسٹینڈرڈ میژرمنٹ سروے میں بھی اے آئی سے متعلق کوئی سوال شامل نہیں، جس کے باعث ملک میں مصنوعی ذہانت کے استعمال کی درست تصویر سامنے نہیں آ سکی۔
مزید پڑھیں: ایپل کو بڑا دھچکا: ایپ اسٹور اور آئی او ایس پر یورپی یونین کے سخت قوانین برقرار
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر پاکستان بروقت ڈیجیٹل انفراسٹرکچر، معیاری ڈیٹا، افرادی قوت کی تربیت اور مؤثر پالیسی سازی پر توجہ دے تو مصنوعی ذہانت معیشت کی ترقی، بہتر حکمرانی اور روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے، بصورت دیگر ملک اس تیزی سے بدلتی ٹیکنالوجی کی دوڑ میں مزید پیچھے رہ سکتا ہے۔







