برطانیہ کے یو کے ڈیمنشیا ریسرچ انسٹیٹیوٹ کے ایڈنبرا مرکز کے محققین مریضوں کے ڈیٹا جن میں آواز کی ریکارڈنگز اور آنکھوں کے اسکین شامل ہیں کا تجزیہ کر رہے ہیں تاکہ معلوم کیا جا سکے کہ پہلے سے موجود کون سی ادویات بیماریوں خصوصاً موٹر نیورون ڈیزیز جیسے عارضوں کے علاج میں مؤثر ثابت ہو سکتی ہیں۔
اس تحقیق میں حصہ لینے والے اسٹیو بیریٹ گزشتہ 10 برس سے موٹر نیورون بیماری کا شکار ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ یہ بیماری انسان سے اس کی شناخت اور مستقبل کی امید چھین لیتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ان کے لیے اس تحقیق میں شامل ہونا صرف دوا لینا نہیں بلکہ ایسے نتائج کی امید رکھنا ہے جو اگر ان کے لیے فائدہ مند نہ بھی ہوں تو مستقبل میں دوسرے مریضوں کی مدد کر سکیں۔
محققین مصنوعی ذہانت کی مدد سے ممکنہ مؤثر ادویات کی نشاندہی کرتے ہیں جنہیں بعد ازاں روبوٹس، طبی آلات اور خصوصی کمپیوٹر الگورتھمز کے ذریعے مختلف مراحل میں جانچا جاتا ہے۔
ادارے کے چیف ایگزیکٹو پروفیسر سدھارتھن چندرن کے مطابق بعض اوقات ایسی ادویات جو کسی اور بیماری کے لیے بنائی گئی ہوں دماغی بیماریوں میں بھی مؤثر ثابت ہو سکتی ہیں مگر ہمیں ابھی اس کا علم نہیں ہوتا
انہوں نے کہا کہ دماغ انسانی جسم کا سب سے پیچیدہ عضو ہے، لیکن مصنوعی ذہانت اور نئی ٹیکنالوجیز نے تحقیق کے ایسے دروازے کھول دیے ہیں جو چند برس پہلے ناقابلِ تصور تھے۔
ماہرین کے مطابق نئی دوا دریافت کر کے مارکیٹ تک پہنچانے میں عموماً 10 سال یا اس سے زیادہ وقت لگتا ہے تاہم مصنوعی ذہانت کی مدد سے یہ عمل تیز ہو سکتا ہے اور مؤثر علاج جلد مریضوں تک پہنچ سکتا ہے۔
پروفیسر سدھارتھن چندرن کا کہنا ہے کہ اعصابی بیماریوں کی تحقیق ایک بڑی تبدیلی کے دہانے پر کھڑی ہے اور مصنوعی ذہانت اس تبدیلی میں مرکزی کردار ادا کر رہی ہے۔







