اسٹینفورڈ یونیورسٹی کی ڈیجیٹل اکانومی لیب کی جانب سے جاری کیے گئے ایک کھلے خط پر 200 سے زائد ماہرین نے دستخط کیے ہیں، جن میں 16 نوبیل انعام یافتہ شخصیات بھی شامل ہیں۔

خط میں خبردار کیا گیا ہے کہ آئندہ ایک دہائی میں مصنوعی ذہانت کی صلاحیتوں میں غیرمعمولی اضافہ متوقع ہے، جس سے دنیا میں ایسی معاشی اور سماجی تبدیلی آ سکتی ہے جو صنعتی انقلاب سے بھی زیادہ بڑی ہوگی، تاہم یہ تبدیلی بہت کم وقت میں رونما ہوگی۔

ماہرین کے مطابق مصنوعی ذہانت ایک جانب پیداواری صلاحیت اور معیارِ زندگی میں نمایاں بہتری لا سکتی ہے، جبکہ دوسری جانب بڑے پیمانے پر ملازمتوں کے خاتمے کا سبب بھی بن سکتی ہے۔

خط میں حکومتوں اور صنعتوں سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ ایسے قوانین، حفاظتی ضوابط اور ادارہ جاتی نظام تشکیل دیں جو اس بات کو یقینی بنائیں کہ مصنوعی ذہانت انسانوں کی جگہ لینے کے بجائے ان کی معاون ثابت ہو اور اس کے فوائد پورے معاشرے تک پہنچیں۔

اس اقدام کے منتظم اور یونیورسٹی آف ورجینیا کے پروفیسر اینٹن کورینیک نے کہا کہ اس تبدیلی سے نمٹنے کے لیے پیشگی منصوبہ بندی ناگزیر ہے، کیونکہ مکمل یقین کا انتظار کرنے سے بہت دیر ہو سکتی ہے۔

یہ خط ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مصنوعی ذہانت کے باعث روزگار پر منفی اثرات کے شواہد سامنے آ رہے ہیں۔ گزشتہ برس اکتوبر میں ایمیزون نے تقریباً 14 ہزار ملازمتیں ختم کرنے کا اعلان کیا تھا، جبکہ کمپنی کے چیف ایگزیکٹو اس سے قبل بتا چکے ہیں کہ جنریٹو اے آئی اور اے آئی ایجنٹس بعض ملازمتوں کی ذمہ داریاں سنبھال رہے ہیں۔

مزید پڑھیں: اسپیس ایکس اے آئی کا نیا ماڈل، تیز رفتار اور کم لاگت ہونے کا دعویٰ

دوسری جانب امریکا میں حالیہ گریجویٹس کو بھی روزگار کے محدود مواقع کا سامنا ہے، جبکہ اقوام متحدہ پہلے ہی خبردار کر چکی ہے کہ مصنوعی ذہانت امیر اور غریب ممالک کے درمیان معاشی تفاوت کو مزید بڑھا سکتی ہے۔