برطانوی محکمہ ثقافت، میڈیا اور کھیل کے مطابق مجوزہ اقدامات کا مقصد آن لائن پھیلنے والی غلط معلومات اور گمراہ کن مواد کا مؤثر مقابلہ کرنا ہے، سوشل میڈیا پلیٹ فارمز اب لاکھوں افراد کے لیے خبروں کا بنیادی ذریعہ بن چکے ہیں، اس لیے مستند صحافت کو زیادہ اہمیت دینا وقت کی ضرورت ہے۔

حکومت اس بات کا جائزہ لے رہی ہے کہ فیس بک، یوٹیوب، ٹک ٹاک اور دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو اس بات کا پابند بنایا جائے کہ وہ عوامی خدمت انجام دینے والے میڈیا اداروں کے مواد کو اپنی فیڈز اور سفارشاتی نظام میں زیادہ نمایاں مقام دیں،  برطانوی نشریاتی ادارے اور دیگر رجسٹرڈ نیوز تنظیمیں شامل ہوں گی جو ضابطہ کار کے تحت کام کرتی ہیں۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب برطانوی حکومت نے حال ہی میں 16 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال سے متعلق سخت اقدامات کا عندیہ دیا ہے، حکام کا مؤقف ہے کہ نوجوانوں کو غیر مصدقہ معلومات، نفرت انگیز مواد اور آن لائن خطرات سے محفوظ رکھنے کے لیے جامع اصلاحات ناگزیر ہیں۔

برطانیہ کے میڈیا ریگولیٹر کی تحقیقات کے مطابق سوشل میڈیا اب ملک میں بالغ افراد اور نوجوانوں کی بڑی تعداد کے لیے خبروں کا اہم ذریعہ بن چکا ہے۔ اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ نوجوان نسل روایتی ٹیلی ویژن اور اخبارات کے مقابلے میں زیادہ تر معلومات سوشل میڈیا پلیٹ فارمز سے حاصل کرتی ہے۔

برطانوی وزیر ثقافت لیزا نینڈی نے اپنے بیان میں کہا کہ جمہوری معاشرے میں درست اور قابلِ اعتماد معلومات تک رسائی انتہائی ضروری ہے۔ ان کے مطابق غلط معلومات اور افواہوں کے بڑھتے ہوئے رجحان کے پیش نظر عوام کو ایسے ذرائع تک پہنچانا ضروری ہے جو صحافتی اصولوں اور ضابطوں کے مطابق کام کرتے ہوں۔

انہوں نے کہا کہ بحرانوں، ہنگامی حالات اور قومی اہمیت کے واقعات کے دوران مستند خبروں کی فوری دستیابی نہ صرف عوامی آگاہی بڑھاتی ہے بلکہ گمراہ کن معلومات کے پھیلاؤ کو بھی محدود کرتی ہے۔

دوسری جانب مجوزہ اقدامات پر ٹیکنالوجی کمپنیوں کی جانب سے تحفظات سامنے آنے کا امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے،  اگر حکومت پلیٹ فارمز کے الگورتھمز اور مواد کی درجہ بندی میں مداخلت کرتی ہے تو اس سے صارفین کی پسند اور آزادانہ انتخاب سے متعلق نئی بحث جنم لے سکتی ہے۔

واضح رہے  کہ مطابق بعض سوشل میڈیا کمپنیاں یہ مؤقف اختیار کر سکتی ہیں کہ مخصوص اداروں کے مواد کو ترجیح دینے سے آزاد مقابلے اور دیگر تخلیق کاروں کی رسائی متاثر ہو سکتی ہے۔ تاہم حکومت کا کہنا ہے کہ مجوزہ پالیسی کا مقصد کسی مخصوص ادارے کو فائدہ پہنچانا نہیں بلکہ مصدقہ معلومات کے فروغ کو یقینی بنانا ہے۔

یہ تجاویز برطانیہ کے پبلک سروس میڈیا نظام کے وسیع جائزے کا حصہ ہیں، جس کا مقصد روایتی نشریاتی اداروں کو بدلتی ہوئی ڈیجیٹل دنیا میں درپیش چیلنجز سے نمٹنے میں مدد فراہم کرنا ہے۔ اس جائزے کے دوران آن لائن میڈیا پلیٹ فارمز کو پبلک سروس میڈیا کے دائرہ کار میں شامل کرنے، کھیلوں کے بڑے مقابلوں کی مفت نشریات کے تحفظ کو ڈیجیٹل پلیٹ فارمز تک توسیع دینے اور مستقبل میں انٹرنیٹ پر مبنی ٹیلی ویژن نظام کی جانب منتقلی جیسے امور پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ اصلاحات نافذ ہو جاتی ہیں تو برطانیہ میں سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل میڈیا کے شعبے میں گزشتہ کئی برسوں کی سب سے بڑی ریگولیٹری تبدیلیاں دیکھنے میں آ سکتی ہیں، جن کے اثرات نہ صرف ٹیکنالوجی کمپنیوں بلکہ میڈیا انڈسٹری اور صارفین پر بھی مرتب ہوں گے۔