یہ صورتحال اس وقت پیدا ہوئی جب روس نے خلائی لیبارٹری کے اپنے حصے میں موجود ایک دراڑ کو ٹھیک کرنے کی کوشش کی۔

ناسا کی ترجمان بیتھنی اسٹیونز نے بتایا کہ خلائی اسٹیشن پر موجود ناسا کے  کرو-12   مشن کے چار خلابازو جن میں دو امریکی، ایک فرانسیسی خلاباز اور ایک روسی خلاباز شامل ہی 

اور ان کے ساتھ ایک اور امریکی خلاباز کو ناسا کے مشن کنٹرول نے جمعہ کی صبح 9:04 بجے پر  (ای ٹی  وقت کے مطابق) اسٹیشن سے جڑے ہوئے  اسپیس ایکس  کے تیار کردہ  کرو ڈریگن  خلائی جہاز میں داخل ہونے کا حکم دیا۔

تاہم، تقریباً دو گھنٹے بعد ناسا نے یہ حکم واپس لے لیا اور خلابازوں کو بتایا کہ وہ واپس خلائی اسٹیشن میں جا سکتے ہیں۔ کیونکہ امریکی خلائی ادارہ اور اس کے روسی ہم منصب ہوا کے اخراج کی رفتار کا جائز لے رہے تھے۔

خلائی اسٹیشن کے دو بڑے آپریٹرز، ناسا اور روس کی خلائی ایجنسی  روسکوسموس ، گزشتہ کئی مہینوں سے روس کے  زویزدا  سروس ماڈیول میں ہوا کے معمولی اخراج کی وجوہات اور ان کے ممکنہ حل پر بحث کر رہے ہیں۔ یہ ماڈیول فٹ بال کے میدان جتنے بڑے خلائی اسٹیشن کا ایک اہم حصہ ہے جہاں خلاباز رہتے اور کام کرتے ہیں۔

روسکوسموس نے جمعہ کو بتایا کہ اس کے ماہرین نے خلائی اسٹیشن پر ہوا کے دو اخراج کا پتہ لگایا ہے، لیکن عملے کو کوئی فوری خطرہ نہیں تھا۔

 روسی ایجنسی کے مطابق پہلے اخراج کو فوری طور پر بند کر دیا گیا تھا اور دوسرے کو بند کرنے کی تیاریاں جاری تھیں اور خلائی جہاز کے سسٹمز کو کوئی خطرہ لاحق نہیں تھا۔

ایک سینئر ناسا عہدیدار نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ حالیہ مہینوں میں ہوا کا اخراج نسبتاً معمولی تھا، لیکن جمعہ کو یہ اچانک ایک پاؤنڈ روزانہ سے بڑھ کر دو پاؤنڈ روزانہ تک پہنچ گیا۔

اس وقت خلائی اسٹیشن دو مختلف مشنز کے سات خلابازوں کا گھر ہے، جن میں  کرو-12  کی ٹیم شامل ہے جو فروری میں وہاں پہنچی تھی۔ اس ٹیم میں ناسا کے خلاباز جیسیکا میر اور جیک ہیتھاوے، یورپی خلائی ایجنسی کی خلاباز سوفی ایڈینوٹ، اور روسی خلا باز آندرے فیڈیایف شامل ہیں۔

دوسرا عملہ نومبر میں پہنچا تھا، جس میں ایک امریکی خلاباز کرسٹوفر ولیمز اور دو روسی خلاباز سرگئی کُڈ-سویرچکوف اور سرگئی میکایف شامل ہیں۔

ناسا کے عہدیدار نے بتایا کہ روسی خلاباز کُڈ-سویرچکوف اور میکایف، جنہوں نے انخلا کے طریقہ کار پر عمل نہیں کیا، اس دراڑ تک پہنچنے کے لیے آرای  کا استعمال کرنے کی منصوبہ بندی کر رہے تھے جہاں سے ہوا خارج ہو رہی تھی۔ ناسا کے حکام نے اس طریقے سے اختلاف کیا، جس کے بعد ہیوسٹن میں موجود مشن کنٹرول نے احتیاطاً خلابازوں کو محفوظ پناہ گاہ میں جانے کا حکم دیا۔

ترجمان بیتھنی اسٹیونز نے کہا کہ جب روسکوسموس نے دراڑ کی مرمت کی کوششیں عارضی طور پر روک دیں، تو ناسا نے محفوظ پناہ گاہ کا حکم واپس لے لیا اور خلابازوں کو اسٹیشن میں لوٹنے کی اجازت دے دی۔ انہوں نے مزید کہا، "ہم ہوا کے اخراج کے مسئلے کو حل کرنے کے لیے روسکوسموس کے ساتھ مل کر کام کرنے کے منتظر ہیں۔"

بین الاقوامی خلائی اسٹیشن کی 27 سالہ تاریخ میں  محفوظ پناہ گاہ   کے احکامات بہت کم دیے گئے ہیں، اگرچہ حالیہ برسوں میں خلائی ملبے کے ٹکرانے کے خطرے یا ہوا کے اخراج کی رفتار میں تبدیلی کے باعث ایسا کیا گیا ہے۔ تاہم، خلابازوں کو کبھی بھی خلائی اسٹیشن کو مکمل طور پر خالی نہیں کرنا پڑا۔

اس وقت امریکی کانگریس کے سامنے ایک قانون سازی زیرِ غور ہے جس کے تحت خلائی اسٹیشن کی مدتِ حیات میں دو سال کی توسیع کر کے اسے 2032 تک برقرار رکھنے کی تجویز ہے، تاکہ نجی کمپنیوں کو اس کا متبادل تیار کرنے کے لیے مزید وقت مل سکے۔

اس بل کو سینیٹ کی کمیٹی برائے کامرس، سائنس اور ٹرانسپورٹیشن کی چیئرپرسن سینیٹر ماریا کینٹ ویل (ڈیموکریٹ) اور سینیٹر ٹیڈ کروز (ریپبلکن) کی حمایت حاصل ہے۔ یہ قانون سازی خلائی دوڑ میں چین کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کا مقابلہ کرنے کے لیے کمیٹی کی کوششوں کا حصہ ہے۔ امریکی سینیٹ اور ایوانِ نمائندگان کے رہنما اس مجوزہ قانون پر اتفاقِ رائے پیدا کرنے کے لیے کام کر رہے ہیں۔