جب یہ بہاؤ بدلتا ہے تو دنیا کے ایک کونے میں سیلاب آتے ہیں اور دوسرے کونے میں زمین پھٹنے لگتی ہے۔ اس مظہر کو کہتے ہیں ال نینو۔
1800 کے بعد سے اب تک 25 بڑے ال نینو واقعات ریکارڈ ہو چکے ہیں۔ اور ہر بار جب یہ آتا ہے تو فصلیں تباہ، پانی ختم، اور کروڑوں لوگوں کی زندگی بدل جاتی ہے۔
1997 اور 1998 میں آنے والا سپر ال نینو انڈونیشیا میں جنگلات میں آگ لگنے کی وجہ بنا۔ زہریلی دھند اور ہوا کی شدید آلودگی کی وجہ سے صرف شیرخوار بچوں اور حاملہ خواتین کے ہاں پیدا ہونے والے بچوں کی اموات کی تعداد 15,000 سے زیادہ بتائی جاتی ہے۔ انڈونیشیا، ملائیشیا اور سنگاپور میں 2 کروڑ سے زیادہ لوگ سانس، آنکھوں اور دل کی بیماریوں کا شکار ہوئے۔ وہاں کی ہوا اتنی زہریلی ہو چکی تھی کہ ایک دن سانس لینا 40 سگریٹ پینے کے برابر تھا۔
اور دوسری طرف پیرو اور ایکواڈور میں سیلاب نے سب کچھ بہا دیا۔ افریقہ میں وبائیں پھیلیں۔ اور صرف ایک سال میں دنیا کو 40 ارب ڈالر کا نقصان ہوا۔
اور اب 2026 سے 2027 کے درمیان ایک اور ماڈریٹ سے سٹرونگ ال نینو آنے کا اندازہ ہے۔ یہ ناسا نہیں بلکہ ولڈ مٹرولوجیکل ارگنائزیشن کا بھی کہنا ہے۔
پاکستان کے لیے اس کا مطلب کیا ہے؟
مون سون کمزور ہوگا۔ گرمی کی لہریں زیادہ آئیں گی۔ پانی کی قلت بڑھے گی۔ فصلیں متاثر ہوں گی۔ اور لاہور — جو پہلے سے دنیا کے آلودہ ترین اور گرم ترین شہروں میں شامل ہے — اس کا درجہ حرارت اوسط سے کئی ڈگری اوپر رہے گا۔
لاہور میں مئی 2025 میں درجہ حرارت 48 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچا۔ محکمہ موسمیات کے مطابق شہر کا اوسط درجہ حرارت پچھلے 30 سالوں میں 2 ڈگری سے زیادہ بڑھ چکا ہے۔ اور ال نینو کے اثر میں یہ اور بڑھے گا۔
لیکن سب سے تکلیف دہ بات یہ ہے کہ جو لوگ اس گرمی کو سب سے کم برداشت کر سکتے ہیں ،دن بھر باہر کام کرنے والے مزدور، رکشہ چلانے والے، کھیتوں میں جھکے کسان۔ وہی اس کی سب سے بھاری قیمت ادا کر رہے ہیں۔ نہ ان کے گھر میں اے سی ہے، نہ گاڑی، نہ کوئی متبادل۔
یہ گرمی قدرتی ضرور ہے ۔ لیکن اس کی شدت قدرتی نہیں۔ یہ دہائیوں کی پالیسیوں کا نتیجہ ہے۔ اور جب تک اسے صرف موسم سمجھا جاتا رہے گا — یہ ہر سال پہلے سے زیادہ واپس آتی رہے گی۔






