غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق حالیہ ری کال کا فیصلہ ایسے متعدد واقعات کے بعد کیا گیا جن میں خودکار گاڑیاں بند یا زیرِ تعمیر فری ویز کی جانب بڑھتی رہیں اور بعض صورتوں میں تعمیراتی زونز کے قریب تک پہنچ گئیں۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ سافٹ ویئر میں موجود ایک خامی کی وجہ سے گاڑیاں بعض اوقات سڑکوں پر لگے عارضی بندش کے اشاروں کو درست طور پر شناخت نہیں کر پاتیں۔

امریکی نیشنل ہائی وے ٹریفک سیفٹی ایڈمنسٹریشن (NHTSA) کو جمع کرائی گئی دستاویزات کے مطابق اپریل کے آغاز سے اب تک کیلیفورنیا اور ایریزونا میں ایک درجن سے زائد ایسے واقعات رپورٹ ہوئے جن میں وے مو کی خودکار گاڑیاں ریمپ بند ہونے کے سائنز اور تعمیراتی رکاوٹوں کو نظر انداز کرتے ہوئے متاثرہ راستوں میں داخل ہو گئیں۔

کمپنی نے صورتحال کا نوٹس لیتے ہوئے فوری طور پر بعض فری ویز پر روبو ٹیکسی سروس محدود کر دی اور انجینئرنگ ٹیموں کو سافٹ ویئر میں اصلاحات کی ہدایت کی۔ وے مو کے مطابق تازہ ترین اپ ڈیٹ کے ذریعے گاڑیوں کے سینسرز اور مصنوعی ذہانت کے نظام کو بہتر بنایا گیا ہے تاکہ مستقبل میں تعمیراتی زونز اور بند راستوں کی بروقت نشاندہی ممکن ہو سکے۔

غیر ملکی میڈیا رائٹرز کو جاری  بیان میں کہا کہ کمپنی نے فری وے تعمیراتی علاقوں سے متعلق نظام میں بہتری کی ضرورت محسوس کی تھی، جس کے بعد احتیاطی اقدامات کے طور پر بعض آپریشنز محدود کیے گئے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ اپ ڈیٹ کے بعد گاڑیوں کی کارکردگی مزید بہتر ہونے کی توقع ہے۔

یہ امر بھی قابلِ ذکر ہے کہ گزشتہ ایک ماہ کے دوران وے مو کی جانب سے یہ دوسرا بڑا ری کال ہے۔ اس سے قبل بھی کمپنی نے تقریباً 3 ہزار 800 روبو ٹیکسیاں واپس بلائی تھیں کیونکہ ان کے سسٹم میں ایسی خامی پائی گئی تھی جو گاڑیوں کو سیلاب زدہ سڑکوں کی جانب لے جا سکتی تھی۔

اس سے متعلق ایک واقعہ 20 اپریل کو امریکی ریاست ٹیکساس کے شہر سان انتونیو میں پیش آیا تھا، جہاں شدید بارشوں اور خراب موسمی حالات کے دوران وے مو کی ایک خودکار گاڑی پانی سے بھری سڑک میں داخل ہو گئی تھی۔ خوش قسمتی سے گاڑی میں کوئی مسافر موجود نہیں تھا اور نہ ہی کوئی جانی نقصان ہوا، تاہم اس واقعے نے خودکار ڈرائیونگ نظام کی حفاظت اور قابلِ اعتماد ہونے سے متعلق نئے سوالات کھڑے کر دیے تھے۔

مزید پڑھیں: کیا گوگل کروم میں اے آئی موڈ کو ڈیفالٹ بنانے جارہا ہے؟

واضح رہے کہ  اگرچہ خودکار گاڑیوں کی ٹیکنالوجی تیزی سے ترقی کر رہی ہے، تاہم پیچیدہ اور غیر متوقع ٹریفک حالات میں مصنوعی ذہانت پر مکمل انحصار اب بھی ایک بڑا چیلنج ہے۔ حالیہ واقعات کے بعد خودکار گاڑیوں کے حفاظتی معیارات اور نگرانی کے نظام پر بحث ایک بار پھر تیز ہو گئی ہے۔

وے مو اس وقت امریکا کے مختلف شہروں میں تجارتی بنیادوں پر روبو ٹیکسی سروس چلا رہی ہے اور اسے خودکار ٹرانسپورٹ کے شعبے میں نمایاں کمپنیوں میں شمار کیا جاتا ہے، تاہم مسلسل سامنے آنے والی تکنیکی خامیاں اس صنعت کے مستقبل اور عوامی اعتماد کے حوالے سے اہم سوالات کو جنم دے رہی ہیں۔