بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق اس بندر کو ملک کے وسطی مشرق میں واقع لومامی نیشنل پارک کے بلند درختوں کی چھتری میں دیکھا گیا، جہاں تحفظِ ماحول کے ماہرین نے پہلی بار 2008 میں اس کی موجودگی نوٹ کی تھی، تاہم اس وقت صرف ایک دھندلی تصویر حاصل ہو سکی تھی۔

تقریباً دس سال بعد دوبارہ نظر آنے پر جمہوریہ کانگو، امریکا اور جرمنی کے ماہرین پر مشتمل تحقیقاتی ٹیم نے اس جانور کی تلاش، تصاویر، آوازوں کی ریکارڈنگ اور جینیاتی تجزیہ کیا، جس کے بعد تصدیق ہوئی کہ یہ بندر کی ایک نئی نسل ہے۔

ماہرین کے مطابق گزشتہ 75 برسوں میں افریقہ میں دریافت ہونے والی یہ بندروں کی صرف پانچویں نئی نسل ہے۔

اس تحقیق میں فلوریڈا اٹلانٹک یونیورسٹی کے پی ایچ ڈی طالب علم جونیئر امبوکو نے اہم کردار ادا کیا، جب کہ تحقیق کے نتائج سائنسی جریدے PLOS One میں شائع کیے گئے۔

جونیئر امبوکو نے بتایا کہ اس جانور کو قریب سے دیکھنا ایک غیر معمولی تجربہ تھا، کیونکہ دنیا میں بہت کم لوگ اس کے وجود سے واقف تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ مقامی آبادی اس بندر کو پہلے سے جانتی تھی اور اسے "لکویلی" کے نام سے پکارتی تھی، تاہم سائنسی اعتبار سے اس کی شناخت اور درجہ بندی پہلی مرتبہ کی گئی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ یہ بندر انتہائی شرمیلا ہے اور زیادہ تر درختوں کی بلند شاخوں میں رہتا ہے۔ تحقیق کے دوران قریبی 52 دیہات کے افراد سے بات کی گئی، جن میں سے صرف آٹھ دیہاتوں کے لوگوں نے کبھی اس بندر کو دیکھا تھا۔

تحقیقاتی ٹیم نے اس نئی نسل کو Colobus congoensis کا سائنسی نام دیا ہے، جو جمہوریہ کانگو کے قدرتی تنوع کی مناسبت سے رکھا گیا ہے۔

ماہرین کے مطابق یہ بندر کولوبس بندروں کے خاندان سے تعلق رکھتا ہے، جن کی ایک نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ ان میں انگوٹھا موجود نہیں ہوتا۔

فلوریڈا اٹلانٹک یونیورسٹی کی پروفیسر کیٹ ڈیٹولر کے مطابق یہ بندر جنگلاتی ماحولیاتی نظام کا اہم حصہ ہیں اور بیجوں کی منتقلی اور نئے پودوں کی افزائش میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بندر کے چہرے پر موجود شوخ نارنجی ہونٹ ممکنہ طور پر ایک دوسرے کو پہچاننے یا ساتھی کو متوجہ کرنے کے لیے بصری اشارے کے طور پر استعمال ہوتے ہیں۔

محققین کے مطابق اس نسل کی ایک منفرد گرج دار آواز بھی ہے، جسے زیادہ سنا جاتا ہے، لیکن یہ خود بہت کم دکھائی دیتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ نسل ممکنہ طور پر ایک محدود علاقے تک ہی پائی جاتی ہے اور گوشت کے لیے شکار کیے جانے کے باعث خطرات سے دوچار ہے۔

تحقیقاتی ٹیم نے امید ظاہر کی ہے کہ نئی نسل کی باضابطہ سائنسی شناخت کے بعد اسے قانونی تحفظ فراہم کرنے میں مدد ملے گی، جب کہ آئندہ اس کی آبادی، رہن سہن اور طرزِ زندگی پر مزید تحقیق بھی کی جائے گی۔