تحقیق سے پتا چلا کہ صرف چند دن تک ان پلیٹ فارمز سے دور رہنے والے صارفین نے زیادہ ذہنی سکون، واضح سوچ اور کم تناؤ محسوس کیا۔
دستاویزات کے مطابق، کمپنی نے ان نتائج کو بےوقت سچائی قرار دیتے ہوئے انہیں منظرعام پر آنے سے پہلے ہی روک دیا۔ اندرونی طور پر ان شواہد کو گمراہ کن بیانیہ قرار دیا گیا حالانکہ کئی محققین نے نجی طور پر تسلیم کیا کہ نتائج درست ہیں۔ ایک محقق نے تو اس صورتحال کا موازنہ اس خاموشی سے کیا جو کبھی تمباکو کی صنعت نے اختیار کی تھی۔
مقدمے میں گوگل، ٹک ٹاک اور اسنیپ چیٹ کے خلاف بھی سنگین الزامات شامل ہیں۔ دعویٰ ہے کہ یہ پلیٹ فارمز کم عمر صارفین کو جان بوجھ کر زیادہ وقت آن لائن رکھنے کے حربے استعمال کرتے ہیں، جہاں مصروفیت کو محفوظ آن لائن تجربے پر فوقیت دی جاتی ہے۔ ایک انکشاف کے مطابق ٹک ٹاک نے بچوں کے حقوق کے اداروں کو اپنے حق میں عوامی بیانیہ مضبوط کرنے کے لیے مالی مدد کی پیشکش بھی کی۔
مزید یہ کہ میٹا کے اندرونی ریکارڈ سے یہ بھی پتا چلا کہ کچھ حفاظتی فیچرز اس انداز میں بنائے گئے کہ وہ زیادہ استعمال نہ ہوں۔ کئی مواقع پر ان فیچرز کی جانچ اس خوف سے موخر کی گئی کہ کہیں صارفین کی مصروفیت کم نہ ہو جائے۔ ایک پیغام میں مارک زکربرگ نے یہاں تک اشارہ دیا کہ ان کے لیے میٹا ورس کی تعمیر، بچوں کی آن لائن حفاظت سے زیادہ اہم ہے۔
واضع رہے کہ میٹا ان تمام الزامات کی سختی سے تردید کرتا ہے۔ کمپنی کا مؤقف ہے کہ مقدمے میں پیش کیے گئے اقتباسات سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیے گئے ہیں اور حقیقت کہیں زیادہ پیچیدہ ہے۔ ترجمان کے مطابق میٹا نے نوجوان صارفین کے تحفظ کے لیے برسوں سے اہم اقدامات کیے ہیں اور عالمی ماہرین کے ساتھ مستقل رابطے میں ہے۔






