امریکہ کے متعدد اسپتالوں میں "موکسی"  نامی روبوٹ روزمرہ کے طبی کام انجام دے رہا ہے۔ یہ روبوٹ مختلف شعبوں کے درمیان ادویات اور طبی سامان کی ترسیل کرتا ہے، جبکہ طبی عملہ اسے اپنی ٹیم کا حصہ سمجھنے لگا ہے۔

 

موکسی بنانے والی کمپنی ڈیلیجنٹ روبوٹکس کے مطابق اسپتال روبوٹ خریدنے کے بجائے اسے "روبوٹکس ایز اے سروس" ماڈل کے تحت کرائے یا سبسکرپشن پر استعمال کرتے ہیں۔ اس پیکیج میں روبوٹ کی دیکھ بھال، مرمت، سافٹ ویئر اپ ڈیٹس اور تکنیکی معاونت بھی شامل ہوتی ہے۔

کمپنی کا کہنا ہے کہ اس ماڈل سے اسپتالوں پر ابتدائی سرمایہ کاری کا بوجھ کم ہو جاتا ہے، جبکہ وہ روبوٹ کے جدید ترین سافٹ ویئر اور نئی صلاحیتوں سے بھی مسلسل فائدہ اٹھاتے رہتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق روبوٹ کرائے پر لینے کا رجحان صرف اسپتالوں تک محدود نہیں رہا بلکہ اب صنعتی ادارے، زرعی شعبہ، ہوٹل، تقریبات اور گھریلو صارفین بھی اس ماڈل میں دلچسپی لے رہے ہیں۔

کیلیفورنیا کی کمپنی ون ایکس رواں سال اپنے انسان نما گھریلو معاون روبوٹ نیو متعارف کرانے جا رہی ہے، جسے صارفین 20 ہزار ڈالر میں خریدنے یا 499 ڈالر ماہانہ سبسکرپشن پر حاصل کر سکیں گے۔

تحقیقی ادارے کاؤنٹرپوائنٹ ریسرچ کے ماہر ایتھن چی کے مطابق روبوٹکس ٹیکنالوجی تیزی سے ترقی کر رہی ہے، اس لیے کرائے کا ماڈل صارفین کو ہر نئے ورژن سے فائدہ اٹھانے کا موقع فراہم کرتا ہے، جبکہ انہیں تکنیکی مسائل سے بھی نہیں نمٹنا پڑتا۔

دوسری جانب شکاگو کی کمپنی فارمک 250 سے زائد صنعتی روبوٹ کرائے پر فراہم کر رہی ہے۔ کمپنی کے مطابق اگر روبوٹ میں کوئی خرابی پیدا ہو جائے تو اس کی مرمت یا تبدیلی کی ذمہ داری کمپنی خود اٹھاتی ہے، جس سے چھوٹی صنعتوں کے لیے بھی جدید روبوٹکس تک رسائی آسان ہو گئی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ چین اس وقت انسان نما روبوٹکس کے میدان میں نمایاں کردار ادا کر رہا ہے، جہاں متعدد کمپنیاں روبوٹ ہوٹلوں، صفائی کی خدمات اور دیگر شعبوں میں کرائے پر فراہم کر رہی ہیں۔ شنگھائی کی کمپنی ایجی بوٹ کے مطابق اس کے انسان نما روبوٹ برطانیہ سمیت 17 ممالک میں کرائے پر دستیاب ہیں۔

مزید پڑھیں: براڈکام اور ایپل نے 2031 تک شراکت داری بڑھانے کا معاہدہ کر لیا

تجزیہ کاروں کے مطابق روبوٹکس ٹیکنالوجی میں تیز رفتار ترقی کے پیش نظر آئندہ برسوں میں روبوٹ خریدنے کے بجائے انہیں کرائے یا سبسکرپشن پر استعمال کرنے کا رجحان مزید بڑھنے کا امکان ہے۔