بھارتی میڈیا کے مطابق الیکٹرانکس اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کی وزارت نے واٹس ایپ کو باضابطہ نوٹس جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ کمپنی وضاحت کرے کہ ایسا فیچر متعارف کرانے پر اس کے خلاف قانونی کارروائی کیوں نہ کی جائے، جس سے سائبر جرائم کے امکانات بڑھ سکتے ہیں۔

رپورٹس کے مطابق واٹس ایپ آئندہ چند ماہ کے دوران دنیا بھر کے تقریباً تین ارب صارفین کے لیے ایک نیا فیچر متعارف کرانے کا ارادہ رکھتا ہے، جس کے تحت صارفین فون نمبر ظاہر کیے بغیر منفرد یوزرنیم کے ذریعے ایک دوسرے سے رابطہ کر سکیں گے۔

بھارتی حکام کا مؤقف ہے کہ اگر صارفین فون نمبر کے بجائے صرف یوزرنیم استعمال کریں گے تو جعلساز، دھوکا دہی میں ملوث عناصر اور سائبر مجرم اپنی شناخت چھپاتے ہوئے آسانی سے لوگوں تک رسائی حاصل کر سکیں گے، جس سے مالی فراڈ، فشنگ، جعلی سرکاری اہلکار بن کر رابطہ کرنے اور شناخت کی چوری جیسے جرائم میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

وزارت نے اپنے نوٹس میں یہ بھی خدشہ ظاہر کیا ہے کہ بعض افراد ایسے یوزرنیم اختیار کر سکتے ہیں جو سرکاری اداروں، مالیاتی اداروں، معروف شخصیات یا دیگر معتبر تنظیموں سے مشابہ ہوں، جس سے عام صارفین کے دھوکا کھانے کا امکان مزید بڑھ جائے گا۔

حکومت نے واٹس ایپ سے کہا ہے کہ جب تک اس معاملے پر تمام خدشات دور نہیں ہو جاتے اور حکومت مطمئن نہیں ہو جاتی، اس وقت تک اس فیچر کو بھارت میں متعارف نہ کرایا جائے۔

دوسری جانب واٹس ایپ کی مالک کمپنی میٹا نے اپنے ردعمل میں کہا ہے کہ مذکورہ فیچر ابھی صارفین کے لیے فعال نہیں کیا گیا اور اس کے اجرا سے قبل متعدد حفاظتی اقدامات کیے جا رہے ہیں تاکہ جعلی اکاؤنٹس، نقالی اور آن لائن فراڈ کی روک تھام ممکن بنائی جا سکے۔

کمپنی کے مطابق معروف عوامی شخصیات، سرکاری اداروں، تصدیق شدہ اکاؤنٹس اور مشہور برانڈز سے متعلق مخصوص یوزرنیم پہلے ہی محفوظ رکھے جائیں گے تاکہ کوئی دوسرا شخص ان ناموں کا غلط استعمال نہ کر سکے۔ اس کے علاوہ ایسے یوزرنیم بھی محدود کیے جائیں گے جو اصل ناموں سے غیر معمولی حد تک مشابہ ہوں۔

واٹس ایپ کا کہنا ہے کہ اکاؤنٹ بنانے کے لیے بدستور فون نمبر درکار ہوگا، جبکہ یوزرنیم صرف رابطے کا ایک اضافی ذریعہ ہوگا۔ کمپنی کے مطابق نئے فیچر میں ایسے خودکار سیکیورٹی سسٹمز بھی شامل کیے جا رہے ہیں جو مشکوک سرگرمی، جعلی اکاؤنٹس، بڑے پیمانے پر پیغامات بھیجنے اور شناخت کی نقالی کی کوششوں کا فوری پتہ لگا کر کارروائی کریں گے۔

کمپنی نے مزید بتایا کہ اگر کسی صارف کو پہلی مرتبہ کوئی شخص پیغام بھیجے گا تو اس کے بارے میں اضافی معلومات بھی دکھائی جائیں گی، جن میں یہ شامل ہوگا کہ اکاؤنٹ کب بنایا گیا، آیا وہ پہلے سے رابطوں کی فہرست میں موجود ہے یا نہیں، مشترکہ گروپس ہیں یا نہیں اور آیا وہ کسی دوسرے ملک سے رابطہ کر رہا ہے، تاکہ صارف بہتر فیصلہ کر سکے۔

واضح رہے کہ بھارت واٹس ایپ کی دنیا کی سب سے بڑی مارکیٹ ہے، جہاں 85 کروڑ سے زائد افراد اس پلیٹ فارم کو استعمال کرتے ہیں۔ اسی وجہ سے بھارتی حکومت سوشل میڈیا اور میسجنگ پلیٹ فارمز کے نئے فیچرز پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے۔

دوسری جانب ڈیجیٹل حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیم انٹرنیٹ فریڈم فاؤنڈیشن نے حکومتی نوٹس پر اعتراض کرتے ہوئے کہا ہے کہ کسی سافٹ ویئر فیچر کے اجرا سے قبل حکومتی اجازت لازمی قرار دینے کی واضح قانونی بنیاد موجود نہیں ہے۔ تنظیم کے مطابق حکومت کو ٹیکنالوجی کمپنیوں کی مصنوعات کے ڈیزائن اور فیچرز پر غیر ضروری مداخلت سے گریز کرنا چاہیے۔

یاد رہے کہ بھارت میں حالیہ برسوں کے دوران سائبر فراڈ اور آن لائن دھوکا دہی کے واقعات میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 2024 کے دوران ایک لاکھ سے زائد سائبر کرائم کے مقدمات درج کیے گئے، جن میں بڑی تعداد آن لائن مالیاتی فراڈ اور فشنگ حملوں سے متعلق تھی، جس کے باعث حکومت ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے لیے مزید سخت ضوابط متعارف کرا رہی ہے۔