کمپنی فوکس کان، وِن فاسٹ، آٹو برینز، اوبر اور ہُومین کے ساتھ مل کر مختلف خطوں میں لیول 4 خودکار الیکٹرک گاڑیوں کی تیاری اور ترقی کو تیز کر رہی ہے۔

لیول 4 آٹونومی سے مراد ایسے سسٹمز ہیں جو مخصوص آپریٹنگ زونز اور حالات میں بغیر انسانی مداخلت کے گاڑی چلا سکتے ہیں۔ این ویڈیا کا یہ پلیٹ فارم گاڑی کے اندر موجود کمپیوٹنگ، سیفٹی سافٹ ویئر اور جدید سینسر سسٹمز کو یکجا کرتا ہے، جن میں کیمرا اور ریڈار شامل ہیں، تاکہ ٹریفک میں ریئل ٹائم فیصلے کیے جا سکیں۔

فوکس کان اپنی شراکت داری این ویڈیا کے ساتھ بڑھا رہا ہے تاکہ مکمل طور پر خودکار الیکٹرک گاڑیاں ڈیزائن اور تیار کی جا سکیں، جن کی ابتدائی تعیناتی تائیوان میں کی جائے گی۔ اطلاعات کے مطابق کاہسیونگ کے حکام مستقبل کے روبوٹیکسی فلیٹس کو سپورٹ کرنے کے لیے انفراسٹرکچر کو اپ گریڈ کر رہے ہیں، اور ابتدائی کمرشل سروسز 2028 کے آس پاس متوقع ہیں۔

فوکس کان کے رول آؤٹ کا پہلا مرحلہ ایئرپورٹ سے شہر تک ٹرانسپورٹ روٹس پر مرکوز ہوگا، جس کے بعد بتدریج اسے ہائی اسپیڈ ریل نیٹ ورک سے کنکشن تک بڑھایا جائے گا۔

وِن فاسٹ بھی آٹو برینز کے ساتھ اپنی شراکت کے ذریعے این ویڈیا کے روبوٹیکسی ایکوسسٹم کو اپنے سسٹمز میں شامل کر رہا ہے۔ کمپنی جنوب مشرقی ایشیا کی مارکیٹس کے لیے گاڑیاں بنانے کا ارادہ رکھتی ہے، جہاں گھنے ٹریفک کے حالات میں زیادہ لچکدار خودکار نظام درکار ہوتے ہیں۔

وِن فاسٹ کے ایگزیکٹوز کا کہنا ہے کہ خودکار موبیلیٹی صرف مہنگی یا پریمیم مارکیٹس تک محدود نہیں ہونی چاہیے، بلکہ ایسے سستے الیکٹرک ماڈلز تیار کیے جائیں جو شہری ٹرانسپورٹ کے چیلنجز کو بہتر طور پر حل کر سکیں۔

یورپ میں اوبر، آٹو برینز کے ساتھ مل کر اس سال میونخ میں ایک روبوٹیکسی پائلٹ پروگرام شروع کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔ یہ سروس اوبر کے موجودہ رائیڈ ہیلنگ پلیٹ فارم میں ضم ہوگی، جس کے ذریعے صارفین ایپ کے اندر ہی خودکار گاڑیاں بک کر سکیں گے۔

اوبر نے ابھی تک یہ واضح نہیں کیا کہ میونخ پائلٹ کے لیے گاڑیاں کون سا آٹومیکر فراہم کرے گا، اور مزید تفصیلات آئندہ مہینوں میں سامنے آئیں گی۔

آٹو برینز کا کہنا ہے کہ ان کا “ایجنٹک اے آئی” اپروچ روایتی خودکار ڈرائیونگ ماڈلز سے مختلف ہے کیونکہ یہ ڈرائیونگ فیصلوں کو متعدد مخصوص سسٹمز میں تقسیم کرتا ہے جو پیچیدہ اور غیر متوقع روڈ حالات کو سنبھالنے کے لیے ڈیزائن کیے گئے ہیں۔

آٹو برینز کے سافٹ ویئر، این ویڈیا کے کمپیوٹنگ پلیٹ فارم اور اوبر کے موبیلیٹی نیٹ ورک کو ملا کر کمپنیاں ایسے اسکیل ایبل روبوٹیکسی فلیٹس تیار کرنے کی کوشش کر رہی ہیں جو مختلف شہروں اور گاڑیوں کی اقسام میں کام کر سکیں۔

مشرق وسطیٰ بھی اس ٹیکنالوجی کی تعیناتی کے لیے اہم فوکس ایریا کے طور پر سامنے آ رہا ہے۔ ہُومین سعودی عرب میں ڈرئیو ہائپریون پر مبنی روبوٹیکسی متعارف کرانے پر کام کر رہی ہے، جو اسمارٹ سٹی ڈویلپمنٹ کے وسیع منصوبوں سے ہم آہنگ ہے۔

سعودی عرب کی ڈیجیٹل انفراسٹرکچر اور اربن موبیلیٹی میں سرمایہ کاری کو ایسے بڑے پیمانے کے خودکار ٹرانسپورٹ سسٹمز کے لیے ٹیسٹنگ گراؤنڈ سمجھا جا رہا ہے، جہاں فزیکل اور اے آئی بیسڈ نیٹ ورکس کو ایک ساتھ جوڑا جائے گا۔

صنعتی ماہرین کے مطابق روبوٹیکسی تیار کرنا عام الیکٹرک گاڑیوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ پیچیدہ ہے، کیونکہ اس میں موبیلیٹی انجینئرنگ کے ساتھ ہائی پرفارمنس کمپیوٹنگ اور ریئل ٹائم ماحول کی سمجھ بوجھ شامل ہوتی ہے۔

این ویڈیا کی حکمت عملی یہ ہے کہ ایک متحد ٹیکنالوجیکل بیک بون فراہم کیا جائے تاکہ آٹومیکرز اور موبیلیٹی فراہم کرنے والے اداروں کو الگ سے مکمل سیلف ڈرائیونگ سسٹمز تیار نہ کرنے پڑیں۔

اگر یہ منصوبے کامیاب ہو جاتے ہیں تو آنے والی ایک دہائی میں دنیا کے بڑے شہروں میں محدود پائلٹ پروگرامز سے آگے بڑھ کر بڑے پیمانے پر خودکار پبلک ٹرانسپورٹ کا نظام تیزی سے پھیل سکتا ہے۔