رپورٹ کے مطابق ایران سے منسلک سرکاری میڈیا اداروں نے یہ اشارہ بھی دیا ہے کہ اگر کمپنیاں ادائیگی نہ کریں تو انٹرنیٹ ٹریفک متاثر ہو سکتی ہے۔
تہران میں قانون سازوں نے گزشتہ ہفتے ایک ایسے منصوبے پر غور کیا جس کے تحت عرب ممالک کو یورپ اور ایشیا سے ملانے والی زیرِ سمندر کیبلز کو ہدف بنایا جا سکتا ہے۔
ایرانی فوج کے ترجمان ابراہیم ذوالفقاری نے (سابقہ ٹویٹر) ایکس پر لکھا کہ ہم انٹرنیٹ کیبلز پر فیس عائد کریں گے۔
ایران کے پاسدارانِ انقلاب سے منسلک میڈیا کے مطابق تہران کا منصوبہ گوگل، مائیکروسافٹ، میٹا اور ایمازون جیسی کمپنیوں کو ایرانی قوانین ماننے کا پابند بنا سکتا ہے۔
منصوبے کے تحت زیرِ سمندر کیبل کمپنیوں کو کیبل گزرنے کی لائسنس فیس ادا کرنا ہوگی، جبکہ مرمت اور دیکھ بھال کے حقوق صرف ایرانی کمپنیوں کو دیے جائیں گے۔
ان میں سے بعض کمپنیاں آبنائے ہرمز اور خلیج فارس سے گزرنے والی کیبلز میں سرمایہ کاری کر چکی ہیں، تاہم یہ واضح نہیں کہ یہ کیبلز ایرانی سمندری حدود سے گزرتی ہیں یا نہیں۔
امریکہ کی سخت پابندیوں کے باعث امریکی کمپنیاں ایران کو ادائیگی نہیں کر سکتیں، اسی لیے بہت سی کمپنیاں ان بیانات کو سنجیدہ پالیسی کے بجائے سیاسی دباؤ سمجھ رہی ہیں۔
اس کے باوجود ایران سے وابستہ میڈیا اداروں نے کیبلز کو نقصان پہنچنے کے خدشات ظاہر کیے ہیں۔ اگر ایسا ہوا تو کھربوں ڈالر کی عالمی ڈیٹا ٹرانسمیشن متاثر ہو سکتی ہے اور دنیا بھر میں انٹرنیٹ کنیکٹیویٹی کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
بلومبرگ اکنامکس کی مشرقِ وسطیٰ ماہر دینا اسفند یاری نے سی این این کو بتایا کہ ایران کی یہ دھمکیاں دراصل آبنائے ہرمز پر اپنے اثر و رسوخ کو ظاہر کرنے اور حکومت کے تحفظ کی حکمتِ عملی کا حصہ ہیں۔
ان کے مطابق ایران عالمی معیشت پر اتنا زیادہ دباؤ ڈالنا چاہتا ہے کہ کوئی ملک دوبارہ اس پر حملہ کرنے کی ہمت نہ کرے۔
یہ زیرِ سمندر کیبلز یورپ، ایشیا اور خلیج فارس کے درمیان انٹرنیٹ اور مالیاتی ڈیٹا کی بڑی مقدار منتقل کرتی ہیں۔ اگر ان کو نشانہ بنایا گیا تو صرف انٹرنیٹ اسپیڈ ہی نہیں بلکہ عالمی نظام متاثر ہو سکتا ہے۔
ممکنہ خلل سے: بینکاری نظام، فوجی مواصلات، اے آئی کلاؤڈ انفراسٹرکچر،ریموٹ ورک، آن لائن گیمنگ،اور اسٹریمنگ سروسز شدید متاثر ہو سکتی ہیں۔
سی این این نے یو اے ای کے حبتور ریسرچ سینٹر کے سینئر محقق مصطفیٰ احمد سے بھی بات کی، جنہوں نے خلیجی خطے میں زیرِ سمندر مواصلاتی نظام پر بڑے حملوں کے اثرات کا مطالعہ کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاسدارانِ انقلاب جنگی غوطہ خوروں، چھوٹی آبدوزوں اور زیرِ آب ڈرونز کے ذریعے ان کیبلز کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔
مزید پڑھیں: ایلون مسک اوپن اے آئی اور سیم آلٹمین کے خلاف 150 ارب ڈالر کا مقدمہ ہار گئے
ان کے مطابق کسی بھی حملے سے کئی براعظموں میں “ڈیجیٹل تباہی” پھیل سکتی ہے۔
ایران کے خلیجی پڑوسی ممالک شدید انٹرنیٹ خلل کا شکار ہو سکتے ہیں، جبکہ تیل و گیس کی برآمدات اور بینکاری نظام بھی متاثر ہو سکتا ہے۔
خطے سے باہر بھارت کے انٹرنیٹ ٹریفک کا بڑا حصہ متاثر ہونے کا خدشہ ہے، جس سے اس کی آؤٹ سورسنگ انڈسٹری کو اربوں ڈالر کا نقصان ہو سکتا ہے۔
یورپ اور ایشیا کے درمیان مالیاتی لین دین اور تجارتی سرگرمیاں بھی سست پڑ سکتی ہیں، جبکہ
مشرقی افریقہ کے بعض علاقوں میں انٹرنیٹ بلیک آؤٹ کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔
مصطفیٰ احمد نے خبردار کیا کہ اگر ایران کے اتحادی گروہ بحیرہ احمر میں بھی ایسی کارروائیاں کریں تو نقصان کہیں زیادہ سنگین ہو سکتا ہے۔







