سیٹلائٹ تصاویر سے دیکھا گیا کہ فلیٹ کے بڑے ریڈار اور کئی اہم عمارتیں تباہ ہو چکی ہیں۔
آخرایران مڈل ایسٹ میں سب سے زیادہ حملے بحرین پر کیوں کر رہا ہے اور بحرین میں موجود ففتھ فلیٹ اتنا اہم کیوں ہے؟
ففتھ فلیٹ صرف ایک عام فوجی بیس نہیں، بلکہ یہ ایک طاقتور کمانڈ اور انٹیلی جنس مرکز ہے۔
یہی مرکز خلیج، ریڈ سی، گلف آف عمان اور بحیرہ عرب میں امریکی فوج کی آنکھ اور کان کی طرح کام کرتا ہے، ہر حرکت کی نگرانی کرتا ہے اور اہم آپریشنز کو منظم کرتا ہے۔
یہ فلیٹ 1995 میں قائم کی گئی تاکہ عراق، ایران، اور افغانستان میں امریکی اثر و رسوخ مضبوط کیا جا سکے۔
یہاں 20 سے زیادہ جنگی جہاز، ڈیزائنرز، (امفیبیئس) یعنی ایسے جہاز جو پانی اور زمین دونوں پر چل سکتے ہیں ، کیریئرز پر سیکڑوں طیارے اور تقریباً 15 ہزار اہلکار موجود ہیں، یعنی یہ ایک مکمل فوجی شہر ہے جو پانی اور زمین دونوں میں طاقت دکھا سکتا ہے!
یہ بیس دنیا کے اہم سمندری راستوں، جیسے اسٹریٹ آف ہورموز، سویز کینال اور باب المندب کے قریب ہے۔ یہاں سے تقریباً 90 فیصد عالمی تیل کی تجارت گزرتی ہے۔
ایران نے اس فلیٹ کو ہدف بنایا تاکہ امریکی کمانڈ، انٹیلی جنس اور خطے میں طاقت کو کمزور کیا جا سکے۔ بحرینی میڈیا کہ مطابق 61 میزائل اور 34 ڈرونز کو روکا گیا، مگر کچھ عمارتوں اور بحری ڈھانچے کو نقصان پہنچا اور ایک شخص ہلاک ہوا۔
اگر ایران فلیٹ کو مکمل نقصان پہنچانے میں کامیاب ہوا تو یہ امریکہ کے لیے ایک بہت بڑا فوجی دھچکا ہوگا اور خطے میں طاقت کا توازن بدل سکتا ہے۔
یہ حملہ صرف بحرین تک محدود نہیں، بلکہ عالمی توانائی اور سمندری تجارت پر بھی اثر ڈال سکتا ہے۔ ایران کا مقصد واضح ہے، امریکہ اور اس کے اتحادی آسانی سے مزید فوجی کارروائی نہ کر سکیں۔







