بین الاقوامی مالیاتی جریدوں اور مارکیٹ رپورٹس کے مطابق ایلون مسک کی دولت میں گزشتہ چند روز کے دوران تقریباً 350 ارب ڈالر کی کمی واقع ہوئی، جس کی بنیادی وجہ ان کی خلائی کمپنی اسپیس ایکس کے حصص کی قدر میں نمایاں گراوٹ بتائی جا رہی ہے۔
رپورٹس کے مطابق اسپیس ایکس کے شیئرز کی قیمت میں تقریباً 30 فیصد تک کمی دیکھی گئی، جس کے باعث سرمایہ کاروں کے اعتماد پر بھی اثر پڑا اور کمپنی کی مجموعی مارکیٹ ویلیو میں خاطر خواہ کمی ریکارڈ کی گئی۔
اس مالیاتی جھٹکے کے بعد ایلون مسک کی مجموعی دولت تقریباً 1.45 ٹریلین ڈالر سے کم ہو کر 1.1 ٹریلین ڈالر کے لگ بھگ رہ گئی ہے، تاہم وہ اب بھی دنیا کے امیر ترین افراد میں شامل ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ چند ہفتے قبل اسپیس ایکس کی غیر معمولی کارکردگی اور حصص کی مضبوط مانگ نے سرمایہ کاروں میں زبردست جوش و خروش پیدا کر دیا تھا، جس کے نتیجے میں کمپنی کی مالیت میں تیزی سے اضافہ ہوا اور ایلون مسک تاریخ کے پہلے ٹریلینئر بننے میں کامیاب ہوئے تھے۔
تاہم حالیہ دنوں میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) سے متعلق بڑے منصوبوں کے لیے اضافی سرمایہ کاری، بڑھتے آپریشنل اخراجات اور مستقبل کے مالی خطرات کے خدشات نے سرمایہ کاروں کو محتاط بنا دیا۔ اسی وجہ سے مارکیٹ میں فروخت کا رجحان بڑھا اور اسپیس ایکس کے شیئرز دباؤ کا شکار ہو گئے۔
مالیاتی تجزیہ کاروں کے مطابق ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کے شعبوں میں بڑھتی ہوئی مسابقت بھی سرمایہ کاروں کے فیصلوں پر اثر انداز ہو رہی ہے۔ سرمایہ کار اب کمپنیوں کی طویل مدتی حکمت عملی، منافع بخش منصوبوں اور اخراجات کے حجم کو زیادہ باریکی سے جانچ رہے ہیں۔
مزید پڑھیں: چین نے دنیا کے طاقتور ترین سپر کمپیوٹر کا اعزاز امریکا سے چھین لیا
رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ اس صورتحال کے اثرات صرف اسپیس ایکس تک محدود نہیں رہے بلکہ عالمی ٹیکنالوجی مارکیٹس میں بھی غیر یقینی کیفیت دیکھی جا رہی ہے۔ کئی بڑی ٹیک کمپنیوں کے حصص میں بھی اتار چڑھاؤ ریکارڈ کیا گیا ہے، جبکہ سرمایہ کار محتاط حکمت عملی اختیار کرتے نظر آ رہے ہیں۔
یاد رہے کہ رواں ماہ ایلون مسک نے اسپیس ایکس کے بعض حصص فروخت کے لیے پیش کیے تھے، جس کے بعد کمپنی کی مالیت میں غیر معمولی اضافہ ہوا اور وہ دنیا کے پہلے ٹریلینئر بن گئے تھے۔ تاہم حالیہ مارکیٹ دباؤ نے ان کی دولت میں ریکارڈ کمی کا سبب بن کر مالیاتی حلقوں کو حیران کر دیا ہے۔
واضح رہےکہ اگر ٹیکنالوجی اور اے آئی کے شعبے میں سرمایہ کاری کے رجحانات یہی رہے تو آنے والے ہفتوں میں عالمی مالیاتی منڈیوں میں مزید اتار چڑھاؤ دیکھنے کو مل سکتا ہے، جبکہ سرمایہ کاروں کی نظریں اسپیس ایکس اور ایلون مسک کے آئندہ مالی فیصلوں پر مرکوز ہیں۔







