رپورٹس کے مطابق اسپیس ایکس کو تقریباً 1750 ارب ڈالرز کی ممکنہ مارکیٹ ویلیو کے ساتھ مارکیٹ میں لانے کی تیاری کی جا رہی ہے۔ اگر ایسا ہوا تو ایلون مسک کی ذاتی دولت میں غیرمعمولی اضافہ ہوسکتا ہے کیونکہ وہ کمپنی کے تقریباً 42 فیصد حصص کے مالک ہیں۔
اسپیس ایکس کی ممکنہ لسٹنگ ایلون مسک کو دنیا کی تاریخ کا پہلا “ٹریلین ائیر” بنا سکتی ہے، یعنی ایسا شخص جس کی دولت ایک ہزار ارب ڈالرز تک پہنچ جائے۔
اسپیس ایکس نے حالیہ برسوں میں خلائی ٹیکنالوجی کے میدان میں کئی انقلابی کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ کمپنی دنیا کا پہلا ایسا راکٹ تیار کرچکی ہے جسے بار بار استعمال کیا جاسکتا ہے، جبکہ اس کے اسٹار لنک منصوبے کے تحت دنیا بھر میں ہزاروں سیٹلائٹس پر مشتمل انٹرنیٹ نیٹ ورک قائم کیا جاچکا ہے۔
کمپنی کی جانب سے تیار کردہ آئی پی او دستاویزات میں بتایا گیا ہے کہ حاصل ہونے والی سرمایہ کاری کو چاند اور مریخ پر انسانی مشنز کے لیے استعمال کیا جائے گا۔ دستاویزات کے مطابق اسپیس ایکس کا مقصد انسانیت کو زمین سے باہر بھی محفوظ مستقبل فراہم کرنا ہے۔
کمپنی نے اپنے وژن میں کہا ہے کہ انسانیت کو ممکنہ عالمی تباہیوں سے محفوظ رکھنے کے لیے دیگر سیاروں پر انسانی آبادکاری ضروری ہے۔ دستاویزات میں یہ بھی درج ہے کہ “ہم نہیں چاہتے کہ انسانوں کا انجام ڈائناسورز جیسا ہو۔
اگرچہ کمپنی نے باضابطہ طور پر سرمایہ کاری کی حتمی رقم ظاہر نہیں کی، تاہم بعض عالمی رپورٹس کے مطابق ایلون مسک اس منصوبے کے ذریعے تقریباً 75 ارب ڈالرز تک سرمایہ حاصل کرنا چاہتے ہیں، جو خلائی صنعت کی تاریخ کی سب سے بڑی سرمایہ کاری میں شمار ہوسکتی ہے۔
دوسری جانب ایلون مسک کی الیکٹرک گاڑیاں بنانے والی کمپنی ٹیسلا بھی ان کی دولت میں اضافے کا ایک بڑا ذریعہ بنی ہوئی ہے۔ ٹیسلا کے بورڈ کی جانب سے مسک کے لیے ایک ہزار ارب ڈالرز مالیت کے ممکنہ معاوضہ پیکج کی منظوری دی جاچکی ہے، تاہم اس کا انحصار مخصوص کاروباری اہداف کے حصول پر ہوگا۔
ان اہداف میں ٹیسلا کی مارکیٹ ویلیو کو تقریباً 8500 ارب ڈالرز تک پہنچانا شامل ہے، جبکہ اس وقت کمپنی کی مارکیٹ ویلیو تقریباً 1500 ارب ڈالرز کے قریب بتائی جاتی ہے۔
واضح رہے کہ اگرچہ ایلون مسک کے لیے دنیا کے پہلے کھرب پتی بننے کے امکانات روشن ہیں، تاہم یہ سفر آسان نہیں ہوگا۔ اسپیس ایکس کو اپنی انتہائی بلند مارکیٹ ویلیو برقرار رکھنے کے لیے مسلسل آمدنی، کامیاب خلائی مشنز اور تجارتی کامیابیوں کا سلسلہ جاری رکھنا ہوگا۔
یاد رہے کہ اسپیس ایکس کی کامیابی نہ صرف ایلون مسک کی دولت میں تاریخی اضافہ کرسکتی ہے بلکہ خلائی صنعت، مصنوعی سیاروں اور بین الاقوامی انٹرنیٹ سروسز کے شعبے میں بھی ایک نئے دور کا آغاز ثابت ہوسکتی ہے۔







