معاہدے کے تحت میٹا نے نیشنل کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر این سی تھری میں قائم ایف آئی اے کے سنگل پوائنٹ آف کانٹیکٹ  کو باضابطہ طور پر تسلیم کر لیا ہے، جس کے بعد فیس بک، انسٹاگرام اور واٹس ایپ سے متعلق قانونی معلومات کے حصول کے لیے ایف آئی اے کو اب براہِ راست اور محفوظ رابطے کی سہولت حاصل ہوگی۔

اس سے قبل ایف آئی اے کو میٹا سے معلومات حاصل کرنے کے لیے میوچل لیگل اسسٹنس ٹریٹیز یا انٹرپول کے ذریعے درخواستیں بھیجنا پڑتی تھیں، جس کے باعث جواب موصول ہونے میں کئی ماہ لگ جاتے تھے۔ حکام کے مطابق نئے نظام کے تحت یہ عمل اب چند دنوں میں مکمل ہو سکے گا، جس سے حساس اور فوری نوعیت کے مقدمات کی تحقیقات میں نمایاں تیزی آئے گی۔

نئے طریقہ کار کے مطابق تمام قانونی درخواستیں صرف این سی تھری کے ذریعے ارسال کی جائیں گی۔ ان میں ڈیٹا محفوظ رکھنے کی درخواستیں، صارف کی بنیادی معلومات، اکاؤنٹ رجسٹریشن کی تفصیلات، لاگ اِن آئی پی ہسٹری، مواد ہٹانے کی درخواستیں اور ہنگامی بنیادوں پر معلومات فراہم کرنے کی درخواستیں شامل ہوں گی۔

طریقہ کار کے مطابق تفتیشی افسر کیس سے متعلق تمام قانونی دستاویزات اور متعلقہ میٹا اکاؤنٹ کی شناختی معلومات جمع کرے گا۔ اس کے بعد سرکل انچارج کی جانچ اور منظوری کے بعد درخواست این سی تھری میں موجود ایف آئی اے کے سرکاری سنگل پوائنٹ آف کانٹیکٹ کو بھیجی جائے گی، جو اسے قائم شدہ محفوظ چینل کے ذریعے میٹا ایشیا پیسفک تک پہنچائے گا۔

ایف آئی اے کے ایک سینئر عہدیدار کا کہنا ہے کہ تمام درخواستیں ایک ہی سرکاری چینل کے ذریعے بھیجی جائیں گی، جس سے جوابدہی، شفافیت، مکمل ریکارڈ اور کارروائی کی رفتار کو یقینی بنایا جا سکے گا۔

ایف آئی اے کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر عثمان انور نے اس پیش رفت کو اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ میٹا کے ساتھ براہِ راست رابطے کا یہ نظام دہشت گردی، بچوں کے جنسی استحصال، آن لائن فراڈ اور دیگر وقت حساس مقدمات میں بروقت کارروائی اور مؤثر تحقیقات کی صلاحیت میں نمایاں اضافہ کرے گا۔

مزید پڑھیں: اے آئی ایجنٹ کے غیر معمولی رویے پر اوپن اے آئی نے حفاظتی اقدامات مزید سخت کرنے کا اعلان

حکام کے مطابق اس نئے نظام سے پاکستان میں سائبر کرائم سے نمٹنے کی استعداد بہتر ہوگی اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر ہونے والی غیر قانونی سرگرمیوں کے خلاف تحقیقات پہلے کے مقابلے میں زیادہ تیز اور مؤثر انداز میں انجام دی جا سکیں گی۔