حقیقت یہ ہے کہ اسکرین کے دوسری جانب نظر آنے والی صورتحال ان دعوؤں سے کافی مختلف ہے۔ گزشتہ برس پاکستان میں تقریباً 900 گھنٹے، یعنی پورے 38 دن تک انٹرنیٹ بلیک آؤٹس دیکھنے میں آئے۔ کبھی سیکیورٹی وجوہات اور کبھی سیاسی حالات کے باعث انٹرنیٹ بند کرنا معمول بنتا جا رہا ہے، جس کے نتیجے میں صرف 2024 کے دوران ملکی معیشت کو 1.6 ارب ڈالر کا براہِ راست نقصان اٹھانا پڑا۔
مسئلہ صرف انٹرنیٹ بندش تک محدود نہیں، بلکہ لوڈ شیڈنگ نے بھی صورتحال کو مزید خراب کر دیا ہے۔ بجلی جاتے ہی موبائل ٹاورز اور ان کے بیک اپ سسٹمز کام کرنا چھوڑ دیتے ہیں، جس سے فری لانسرز اور آن لائن کام کرنے والے افراد شدید مشکلات کا شکار ہو جاتے ہیں۔
اسی وجہ سے اب بہت سے صارفین سست رفتار انٹرنیٹ سے مایوس ہو کر مہنگی سیٹلائٹ انٹرنیٹ سروسز کی جانب منتقل ہو رہے ہیں۔ دوسری جانب حکومت کا کہنا ہے کہ نئے سب میرین کیبلز اور فائبر آپٹک نیٹ ورک پر کام جاری ہے، جو مستقبل میں صورتحال بہتر بنا سکتے ہیں۔
تاہم بڑا سوال اب بھی اپنی جگہ موجود ہے کہ کیا روزانہ کی بنیاد پر ہونے والے انٹرنیٹ آؤٹیجز کے ساتھ پاکستان واقعی ایک ڈیجیٹل ہب بننے کا خواب پورا کر پائے گا؟






