کیلیفورنیا کے شہر اوکلینڈ کی وفاقی عدالت میں متفقہ فیصلے میں جیوری نے کہا کہ ایلون مسک نے مقدمہ دائر کرنے میں بہت تاخیر کی۔ جیوری نے دو گھنٹے سے بھی کم وقت میں مشاورت مکمل کی۔
فیصلے کے بعد ایلون مسک کے وکیل نے کہا کہ وہ اپیل کا حق محفوظ رکھتے ہیں، تاہم جج ایوون گونزالیز راجرز نے عندیہ دیا کہ اپیل میں کامیابی مشکل ہو سکتی ہے کیونکہ یہ ایک حقیقت پر مبنی معاملہ ہے کہ آیا مقدمہ دائر کرنے سے پہلے قانونی مدت ختم ہو چکی تھی یا نہیں۔
جج ایوون گونزالیز راجرز نے کہا کہ جیوری کے فیصلے کی حمایت میں کافی شواہد موجود ہیں، اسی لیے وہ فوری طور پر مقدمہ خارج کرنے کے لیے تیار تھیں۔
ایلون مسک نے 2024 میں دائر مقدمے میں اوپن اے آئی، اس کے چیف ایگزیکٹو سیم آلٹمین اور صدر گریگ بروک مین پر الزام عائد کیا تھا کہ انہوں نے انہیں 3 کروڑ 80 لاکھ ڈالر کی سرمایہ کاری پر آمادہ کیا اور بعد میں اصل غیر منافع بخش ادارے کے ساتھ ایک منافع بخش کاروبار جوڑ کر مائیکروسافٹ اور دیگر سرمایہ کاروں سے اربوں ڈالر حاصل کیے۔
ایلون مسک نے اوپن اے آئی کے اقدامات کو “فلاحی ادارے کی چوری” قرار دیا تھا۔
اوپن اے آئی کی بنیاد 2015 میں سیم آلٹمین، ایلون مسک اور دیگر افراد نے رکھی تھی۔ ایلون مسک نے 2018 میں اس کے بورڈ سے علیحدگی اختیار کی جبکہ کمپنی نے اگلے سال منافع بخش شعبہ قائم کیا۔
اوپن اے آئی نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ اصل میں ایلون مسک مالی فائدے کے خواہاں تھے اور انہوں نے بہت دیر بعد یہ دعویٰ کیا کہ کمپنی نے انسانیت کے فائدے کے لیے محفوظ مصنوعی ذہانت تیار کرنے کے معاہدے کی خلاف ورزی کی۔
اوپن اے آئی کے وکیل ولیم ساوٹ نے اپنے اختتامی دلائل میں کہا کہ “مسٹر مسک شاید کئی شعبوں میں سونے کو ہاتھ لگاتے ہوں، لیکن مصنوعی ذہانت میں نہیں۔”
یہ فیصلہ 11 روز تک جاری رہنے والی سماعتوں، گواہیوں اور دلائل کے بعد سامنے آیا، جہاں ایلون مسک اور سیم آلٹمین دونوں کی ساکھ پر سوالات اٹھائے گئے۔
فیصلہ سنائے جانے کے بعد اوپن اے آئی کے وکلا نے ایک دوسرے کو گلے لگا کر خوشی کا اظہار کیا۔
Elon Musk loses case against OpenAI, with jury deciding the tech billionaire waited too long to file lawsuit and the statute of limitations ran out. https://t.co/k1OLbtbB5r pic.twitter.com/sPZfIJOE9M
— CNN (@CNN) May 18, 2026
مائیکروسافٹ کے خلاف بھی معاونت کا الزام شامل تھا۔ کمپنی کے ترجمان نے بیان میں کہا کہ “اس مقدمے کے حقائق اور وقت کا تعین شروع سے واضح تھا اور ہم جیوری کے اس فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہیں جس میں ان دعوؤں کو وقت گزر جانے کی بنیاد پر مسترد کیا گیا۔”
مصنوعی ذہانت کا استعمال اس وقت تعلیم، چہرہ شناسی، مالی مشاورت، صحافت، قانونی تحقیق، طبی تشخیص اور جعلی ویڈیوز سمیت مختلف شعبوں میں ہو رہا ہے، تاہم کئی افراد اس ٹیکنالوجی پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے خدشہ ظاہر کرتے ہیں کہ یہ انسانوں کی ملازمتیں متاثر کر سکتی ہے۔
دونوں فریقین نے ایک دوسرے پر عوامی مفاد کے بجائے مالی مفادات کو ترجیح دینے کا الزام عائد کیا۔
ایلون مسک کے وکیل اسٹیون مولو نے جیوری کو یاد دلایا کہ متعدد گواہوں نے سیم آلٹمین کی دیانت داری پر سوال اٹھائے یا انہیں جھوٹا قرار دیا، جبکہ سیم آلٹمین نے دورانِ سماعت خود کو مکمل طور پر قابلِ اعتماد قرار دینے سے بھی گریز کیا۔
انہوں نے کہا، “سیم آلٹمین کی ساکھ اس مقدمے میں براہِ راست اہمیت رکھتی ہے۔ اگر آپ ان پر یقین نہیں کرتے تو وہ یہ مقدمہ نہیں جیت سکتے تھے۔”
ایلون مسک نے اوپن اے آئی پر الزام لگایا تھا کہ وہ غیر منافع بخش ادارے کے بجائے سرمایہ کاروں اور اندرونی افراد کو فائدہ پہنچانے کی کوشش کر رہی ہے اور مصنوعی ذہانت کی حفاظت کو ترجیح نہیں دے رہی۔
اوپن اے آئی اس وقت اینتھروپک اور ایکس اے آئی جیسی کمپنیوں سے مقابلہ کر رہی ہے اور ممکنہ ابتدائی عوامی پیشکش کی تیاری کر رہی ہے، جس سے کمپنی کی مالیت ایک کھرب ڈالر تک پہنچ سکتی ہے۔
عدالت میں ایک مائیکروسافٹ عہدیدار نے گواہی دی کہ کمپنی اوپن اے آئی کے ساتھ شراکت داری پر 100 ارب ڈالر سے زائد خرچ کر چکی ہے۔
دوسری جانب ایلون مسک کی کمپنی ایکس اے آئی اب ان کی خلائی اور راکٹ کمپنی اسپیس ایکس کا حصہ بن چکی ہے، جو ایک ایسی ابتدائی عوامی پیشکش کی تیاری کر رہی ہے جو حجم میں اوپن اے آئی سے بھی بڑی ہو سکتی ہے۔







