یہ فیصلہ خواتین اور بچوں کی جنسی نوعیت کی تصاویر تیار کیے جانے پر عالمی سطح پر شدید ردِعمل کے بعد کیا گیا ہے۔
ایکس کے مطابق ان تمام ممالک میں جہاں ایسا عمل غیر قانونی ہے، گروک اور ایکس کے صارفین کی جانب سے لوگوں کی تصاویر کو بکنی، زیرِجامہ یا اسی نوعیت کے لباس میں بنانے کی صلاحیت بلاک کر دی جائے گی۔
ایکس کی سیفٹی ٹیم کے بیان میں کہا گیا ہے کہ تکنیکی اقدامات نافذ کر دیے گئے ہیں تاکہ گروک اکاؤنٹ حقیقی افراد کی تصاویر کو بکنی یا دیگر نمایاں لباس میں ایڈٹ کرنے کی اجازت نہ دے۔ یہ پابندی تمام صارفین پر لاگو ہو گی، جن میں بامعاوضہ سبسکرائبرز بھی شامل ہیں۔
یہ اعلان اس وقت سامنے آیا جب چند گھنٹے قبل کیلیفورنیا کے اٹارنی جنرل نے xAI کے خلاف تحقیقات شروع کیں، جو حالیہ ہفتوں میں بغیر رضامندی کے جنسی طور پر واضح مواد کی تیاری سے متعلق ہیں۔ اس کمپنی کی سربراہی ایلون مسک کرتے ہیں۔
Just how bad is Grok s nonconsensual porn problem? Musk s AI chatbot is generating another sexualized image of someone without their permission every single minute: pic.twitter.com/RH08dCYx2F
— chopped unc crisis hotline (@youwouldntpost) January 6, 2026
بین الاقوامی سطح پر ایکس اے آئی پر دباؤ بڑھ رہا تھا کہ وہ گروک پر مؤثر کنٹرول کرے، خاص طور پر اس کے نام نہاد اسپائسی موڈ فیچر کے بعد، جس کے ذریعے سادہ تحریری ہدایات دے کر خواتین اور بچوں کی جنسی نوعیت کی ڈیپ فیک تصاویر بنائی جا سکتی تھیں۔
انڈونیشیا ہفتے کے روز گروک تک رسائی مکمل طور پر بند کرنے والا پہلا ملک بن گیا، جبکہ اتوار کو ملائیشیا نے بھی اسی نوعیت کا اقدام کیا۔ بھارت نے اتوار کو بتایا کہ اس کی شکایات پر ایکس نے ہزاروں پوسٹس اور سینکڑوں صارف اکاؤنٹس ہٹا دیے ہیں۔
برطانیہ کے میڈیا ریگولیٹر آف کام نے اعلان کیا ہے کہ وہ اس بات کی تحقیقات کرے گا کہ آیا ایکس نے جنسی نوعیت کی تصاویر کے حوالے سے برطانوی قوانین کی خلاف ورزی کی ہے یا نہیں۔
فرانس کی بچوں کی کمشنر سارہ ال ہائری نے کہا ہے کہ انہوں نے گروک کی تیار کردہ تصاویر فرانسیسی پراسیکیوٹرز، میڈیا ریگولیٹر آرکام اور یورپی یونین کو بھیج دی ہیں۔







