ٹیکساس سے تعلق رکھنے والے قانون ساز کی جانب سے پیش کیے جانے والے "اے آئی انسیڈنٹ رپورٹنگ ایکٹ کے تحت اے آئی کمپنیاں کسی بھی خطرناک سرگرمی یا سیکیورٹی واقعے کی اطلاع سات دن کے اندر امریکی محکمہ تجارت کو دینے کی پابند ہوں گی، جبکہ انتہائی سنگین واقعات سے کانگریس کو 48 گھنٹوں کے اندر آگاہ کیا جائے گا۔
مجوزہ قانون میں ایسے واقعات کو رپورٹ کرنا ضروری قرار دیا گیا ہے جن میں سے آئی ماڈل انسانی نگرانی سے بچنے، حفاظتی رکاوٹوں کو عبور کرنے یا انسانی کنٹرول کو کمزور کرنے کی کوشش کرے۔ اس کے علاوہ ماڈل ویٹس تک غیر مجاز رسائی اور کیمیائی، حیاتیاتی یا جوہری نوعیت کے ممکنہ خطرات بھی رپورٹنگ کے دائرے میں شامل ہوں گے۔
یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب جدید اور طاقتور اے آئی ماڈلز کے قومی سلامتی اور عوامی تحفظ پر اثرات کے حوالے سے خدشات بڑھ رہے ہیں۔ حال ہی میں امریکی محکمہ تجارت نے قومی سلامتی کے پیش نظر اینتھروپک کے بعض جدید اے آئی ماڈلز کے خلاف کارروائی کی تھی، جس کے بعد کمپنی نے ان تک عالمی رسائی محدود کر دی تھی۔
مزید پڑھیں: کیا گوگل کروم میں اے آئی موڈ کو ڈیفالٹ بنانے جارہا ہے؟
نیتھنیئل موران کا کہنا ہے کہ ان کا بل اے آئی وسے متعلق وسیع قانون سازی کے مقابلے میں زیادہ قابل عمل ہے اور اسے دونوں جماعتوں کی حمایت حاصل ہونے کی امید ہے۔
ماہرین کے مطابق امریکی عوام میں مصنوعی ذہانت کے ممکنہ خطرات کے حوالے سے بڑھتی ہوئی تشویش قانون سازوں پر مؤثر ضابطہ سازی کے لیے دباؤ بڑھا رہی ہے۔







