امریکی ٹی وی کو دیے گئے انٹرویو میں 70 سالہ بل گیٹس نے کہا کہ وہ اے آئی کے معاملے پر بات کرنے کے لیے صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملنا پسند کریں گے۔

یہ بات بل گیٹس نے اس وقت کہی جب ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر اے آئی ٹیکنالوجی کی پیشرفت کی رفتار کو سست کرنے کے خیال کی مخالفت کی ہے۔

بل گیٹس نے کہا کہ اے آئی کمپنیوں کو ریگولیٹ کرنے کے لیے مانیٹرنگ سسٹمز کے استعمال سے اس ٹیکنالوجی کے شعبے میں امریکی بالادستی کو چین کے مقابلے میں برقرار رکھنے میں مشکلات کا سامنا نہیں ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے جو کہا وہ ٹھیک ہے، مگر میرے خیال میں جب وہ مجھ سے اور دیگر افراد سے یہ سنیں گے کہ یہ کوئی رکاوٹ نہیں، تو انہیں فیصلہ کرنے میں آسانی ہوگی۔

بل گیٹس نے کہا کہ دوسری جنگ عظیم کے بعد سے امریکا ہر اس موقع پر آگے آیا ہے جب عالمی چیلنجز ابھرے، ایوی ایشن سیفٹی، اوزون کی تہہ، جوہری ہتھیار اور بھی متعدد چیزوں میں ہم نے منصفانہ کردار ادا کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ اے آئی بھی ایسا شعبہ ہے جس میں ہمیں آگے بڑھ کر کردار ادا کرنا چاہیے۔

مائیکرو سافٹ کے شریک بانی کے مطابق اے آئی سے لاحق خطرات کی روک تھام اور انسانیت کے تحفظ کو انڈسٹری کے لیے رکاوٹ قرار نہیں دیا جاسکتا اور اس سے جڑے خطرات محض افواہیں نہیں ہیں۔

اس سے قبل گزشتہ دنوں ایک بیان میں بل گیٹس نے اے آئی سے جڑے خطرات کی روک تھام کے لیے سخت اقدامات کا مطالبہ کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ اے آئی غلط ہاتھوں میں چلی گئی تو یہ اربوں زندگیوں کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ کچھ افراد اے آئی کو ایسا ہتھیار بنا سکتے ہیں جو پہلے کبھی نہیں دیکھا گیا، حکومتیں اس ٹیکنالوجی کی کڑی نگرانی کریں اور سخت قوانین بنائیں۔

اس نئے انٹرویو میں بھی انہوں نے کہا کہ اے آئی اتنی طاقتور ٹیکنالوجی ہے جو ایک ارب اموات کی وجہ بن سکتی ہے۔ ان کے مطابق پہلے کبھی ایسا کوئی ہتھیار نہیں تھا جو اتنا طاقتور ثابت ہوسکتا تھا۔