اوپن اے آئی نے اپنے بلاگ میں بتایا کہ یہ واقعہ کمپنی کی جانب سے جدید ترین اے آئی ماڈلز کی سائبر صلاحیتوں کے کنٹرولڈ ماحول میں کیے جانے والے سیکیورٹی ٹیسٹ کے دوران پیش آیا۔ کمپنی کے مطابق اے آئی ایجنٹ نے اپنے مقررہ ٹیسٹنگ ہدف کو پورا کرنے کی کوشش میں حفاظتی رکاوٹیں عبور کیں، انٹرنیٹ تک رسائی حاصل کی اور ہگنگ فیس کے سسٹمز کو نشانہ بنایا۔
اوپن اے آئی نے اس واقعے کو "ایک بے مثال سائبر سیکیورٹی واقعہ" قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس میں انتہائی جدید سائبر صلاحیتیں استعمال ہوئیں۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ واقعے کے بعد حفاظتی اقدامات اور کنٹرول سسٹمز کو مزید مضبوط بنایا جا رہا ہے تاکہ مستقبل میں اس نوعیت کے واقعات سے بچا جا سکے۔
واضح رہے کہ ہگنگ فیس ایک معروف پلیٹ فارم ہے جہاں اوپن سورس بڑے لینگویج ماڈلز اور ڈیٹا سیٹس کی میزبانی کی جاتی ہے۔ گزشتہ ہفتے ہگنگ فیس نے اپنے بلاگ میں انکشاف کیا تھا کہ اسے ایک ایسے سائبر حملے کا سامنا کرنا پڑا جو ماضی کے تمام حملوں سے مختلف تھا۔ کمپنی کے مطابق یہ حملہ ابتدا سے اختتام تک ایک خودمختار اے آئی ایجنٹ سسٹم نے انجام دیا۔
ہگنگ فیس کے شریک بانی کلیمنٹ ڈیلانگ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر کہا کہ ابتدائی طور پر کمپنی کو شبہ تھا کہ حملہ کسی جدید اے آئی تحقیقی ادارے سے وابستہ ہو سکتا ہے، کیونکہ حملہ آور اے آئی ایجنٹ غیر معمولی صلاحیتوں کا حامل تھا۔ بعد ازاں اوپن اے آئی کے انکشاف سے اس شبہے کی تصدیق ہو گئی۔ انہوں نے کہا کہ یہ انتہائی حیران کن ہے کہ پورا حملہ مکمل طور پر خودکار انداز میں انجام پایا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اوپن اے آئی کا یہ اعتراف جدید اے آئی ماڈلز کی صلاحیتوں اور ان سے وابستہ ممکنہ خطرات کے حوالے سے نئی بحث کو جنم دے گا، خصوصاً اس لیے کہ کمپنی کے مطابق اے آئی ایجنٹ ایک انتہائی محفوظ اور محدود ماحول میں موجود تھا، لیکن اس کے باوجود وہ حفاظتی حدود سے باہر نکلنے میں کامیاب ہو گیا۔
امریکی ایوانِ نمائندگان کے رکن گریگ کاسر نے اس واقعے کو تشویشناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ مصنوعی ذہانت کی ترقی انتہائی تیز رفتاری سے جاری ہے، جبکہ اس شعبے میں مؤثر قوانین اور حفاظتی ضوابط موجود نہیں۔ انہوں نے آزادانہ حفاظتی جانچ، سیکیورٹی واقعات کی لازمی رپورٹنگ اور بین الاقوامی تعاون پر زور دیا۔
ادھر سائبر سیکیورٹی کمپنی لوٹا سیکیورٹی کی چیف ایگزیکٹو کیٹی موسورس نے خبردار کیا کہ یہ واقعہ مستقبل میں ہونے والے مزید خودکار سائبر حملوں کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتا ہے۔ ان کے مطابق لیبارٹریوں اور حکومتی اداروں کو ایسے مؤثر نظام تیار کرنے ہوں گے جو خودمختار اے آئی ایجنٹس کی نگرانی، انہیں محدود رکھنے اور کسی بھی خلاف ورزی کی صورت میں فوری اطلاع دینے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔
مزید پڑھیں: لانچ سے قبل سام سنگ گلیکسی زیڈ فولڈ 8 کی پہلی جھلک سامنے آ گئی
دوسری جانب ایجنٹک اے آئی سائبر سیکیورٹی کمپنی ٹولمو کے انجینئر میٹ سوئچے نے کہا کہ یہ واقعہ ظاہر کرتا ہے کہ جدید اے آئی ماڈلز اب ریاستی سطح کے سائبر حملہ آوروں کی صلاحیتوں کے قریب پہنچ رہے ہیں۔ تاہم ان کے مطابق اس نوعیت کی کارروائیاں اب صرف بڑی تحقیقی لیبارٹریوں تک محدود نہیں رہیں بلکہ نسبتاً عام دستیاب ٹیکنالوجی سے بھی ممکن ہو سکتی ہیں۔






